انڈونیشیا: مذہبی رہنما پر مقدمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مذہبی رہنما ابو بکر بشیر پر دہشت گردی اور ممنوعہ اسلحہ رکھنے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلے گا۔ ابوبکر بشیر پر الزام لگتا رہا ہے کہ وہ تشدد پسند تنظیم جامعتہ الاسلامیہ کے سربراہ ہیں جس نے بالی نائٹ کلب اور میریٹ ہوٹل جکارتا میں بم دھماکے کیے جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہو گئے۔ ابوبکر بشیر نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انڈونشیا کی ایک عدالت پہلے ہی ان کو تشدد پسند تنظیم جامعتہ الاسلامیہ کے روحانی پیشوا ہونے کے الزام سے بری کر چکی ہے۔ انڈونیشیا کے اٹارنی جنرل کے ترجمان کیماس یحییٰ کے مطابق ابوبکر بشیر پر دہشت گردی کے الزامات پر مقدمہ عدالت میں دائر کیا جائے گا۔ اگر حکومت دہشت گردی کے الزامات ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی تو ابوبکر بشیر کوسزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ اٹارنی جنرل کے ترجمان نے کہا کہ ابو بشیر کے خلاف مضبوط شہادتیں موجود ہیں اور حکومت کو یقین ہے کہ وہ ان الزامات کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اٹارنی جنرل کے ترجمان کے مطابق ابوبکر بشیر پر جے ڈبلیو میریٹ جکارتا بم دھماکے کے الزام کا سامنا کرنے پڑے گا۔ ترجمان اس بات کی وضاحت کی کہ ابوبکر بشیرپر بالی بم دھماکے کا الزام نہیں لگے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||