11/9 کی کالز کا ریکارڈنگ جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک نے پہلی مرتبہ گیارہ ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے وقت وہاں سے کی جانے والی ایمرجنسی کالز کی جزوی ریکارڈنگ جاری کی ہے۔ تقریباً نو گھنٹوں پر محیط ان کالز سے ایمرجنسی سروس فراہم کرنے والے اداروں کے رد عمل کا اندازہ ہوتا ہے۔ نیویارک ٹائمز اخبار اور گیارہ ستمبر کے متاثرین کے اہل خانہ کی جانب سے مقدمہ دائر کیئے جانے کے بعد ان ایمرجنسی اداروں کے فون کالز وصول کرنے کی ریکارڈنگ جاری کی گئی ہے۔ تاہم بیشترمتاثرین کی آوازوں کی ریکارڈنگ جاری نہیں کی گئی۔ لوگوں کو امید ہے کہ ان کالز سے واضح ہوسکے گا کہ ٹوئن ٹاورز کے اندر لوگوں پر کیا گزری۔ 2004 میں کی گئی ایک تفتیش سے سامنے آیا تھا کہ ایمرجنسی اداروں کے زیادہ تر اہلکاروں کے پاس ٹوئن ٹاورز میں پھنسے لوگوں کے لیئے مناسب معلومات نہیں تھیں۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے وقت کی گئی 130 کالز کی ریکارڈنگ جاری کی گئی ہے۔ ان حملوں میں 2749 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان کالز میں: ایک پولیس آپریٹر کہہ رہا ہے کہ ’کالر نے بتایا ہے کہ ٹریڈ سنٹر کے شمال مغرب میں ایک شخص عمارت سے لٹکا ہوا ہے‘۔ اس کے جواب میں آپریٹر نے کہا ’ٹھیک ہے، ہمیں اس بارے میں اور بھی کالز موصول ہورہی ہیں‘۔ ایک آپریٹر عمارت کی 103 ویں منزل سے کی گئی فون کال کے بارے میں بتا رہا ہے ’کال کرنے والے کا کہنا ہے کہ یہاں بھرنے والے دھویں سے لوگوں کی طبیعت خراب ہورہی ہے۔ بہت سے لوگ ہیں۔ یہ سب پھنسے ہوئے ہیں‘۔ گزشتہ سال ایک عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ متاثرین کے خاندان والوں کو عمارت میں موجود ان 28 افراد کی آواز میں کالزتک رسائی حاصل ہونی چاہئے اور اگر وہ اجازت دیں تو ان آوازوں کو عوامی طور پر بھی جاری کیا جانا چاہیئے۔ ان 28 افراد کو بعد میں ان کی آواز سے شناخت کرلیا گیا تھا۔ جمعرات کو ایسے ہی ایک ہلاک شدہ شخص کرسٹوفر ہینلی کے والدین کی اجازت کے بعد اس کی آواز کی ریکارڈنگ جاری کی گئی ہے۔ یہ کال ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے پہلے جہاز کے ٹکرانے کے چار منٹ بعد کی گئی تھی۔ ’ہائے، میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی 106 ویں منزل پر ہوں۔ لگتا ہے کہ 105 ویں منزل پر دھماکہ ہوا ہے۔ یہاں بہت دھواں بھر رہا ہے‘۔ اس کال کے جواب میں آپریٹر نے اسے کہا ’اپنی جگہ بیٹھے رہو۔ ہم آرہے ہیں۔‘ ’ٹھیک ہے، پلیز جلدی کریں‘۔ | اسی بارے میں گیارہ ستمبر کو یومِ مذمت11 September, 2004 | پاکستان 11/9: ہائی جیکروں پر نیا تنازعہ10 August, 2005 | آس پاس دہشت گرد کون ہے؟23 September, 2005 | Blog پرائیویٹ کالز کی جاسوسی کا اعتراف 18 December, 2005 | آس پاس ’ایک اورٹاور اڑانے کامنصوبہ تھا‘09 February, 2006 | صفحۂ اول برطانیہ: نسلی مباحثوں میں شدت26 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||