دہشت گرد کون ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موجودہ دور میں بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کے متعلق بہت سوچ بچار ہورہا ہے۔ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے بہت بڑے حادثے نے انسانی سرد دماغی کو جھنجھوڑکر رکھ دیا ہے۔ ہر شخص ایک قدم اٹھانے سے قبل کئی بار سوچتا ہے۔ ہر ملک چونکا ہوا ہے۔ دنیا کی ساری طاقت اپنی بےبسی سے خوفزدہ نظر آتی ہے۔ کوئی بھی نہیں جانتا کہ کب امن کے دشمن معصوم انسانیت کو بےدریغ اپنے ناپاک ارادوں کی بھینٹ چڑھا دیں۔ موجودہ حالات میں بےبسی کا یہ عالم ہے کہ انسان چاہے کسی بھی خطے میں ہو، پڑھا لکھا ہو یا لاعلم، امیر یا غریب، کالا یا گورا، ایشیائی یا ویسٹرن، دہشت گردی کا خوف ہر کسی کی زندگی کے ساتھ سائے کی طرح رہتا ہے۔ کون دہشت گرد ہے؟ کس کو دہشت گرد کہیں؟ انسان اس لئے دہشت گرد نہیں کہ وہ دہشت گردی کرتا ہے، مگر اس لئے دہشت گرد ہے کہ اس کے اندر گناہ کی موجودگی اس کو دہشت گرد بناتی ہے۔ افراطِ گناہ آج دہشت گردی کی شکل میں دنیا کے ہر کونے میں موجود ہے۔ گناہ شیطان کی دریافت ہے۔ ہم کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، کسی خطے میں رہتے ہوں، طرح طرح کی پریشانیاں ہر کسی کو لاحق ہیں۔ مگر بھوک اور افلاس ایک ایسی چیز ہے جس کو نسبتا بہت زیادہ لوگ اس نظر سے دیکھتے کہ خوشحالی خدا کی برکت اور افلاس خدا کی لعنت ہوتی ہے۔ میرے خیال میں دہشت گردی کی ایک بہت بڑی وجہ بھوک جیسی یہ لعنت بھی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ بھوک جیسی یہ لعنت ہماری ہی مقدر کیوں ہے۔ ہم میں وہ کون سی کمی ہے جو ہمارے لوگ خوشحالی جیسی نعمت سے بہت دور ہیں۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ دہشت گرد کون ہے، اصل بات تو یہ ہے کہ دہشت گردی کیوں ہے۔ ہم سب کے لئے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ پھر وہی سوال کہ کس کو دہشت گرد کہیں؟ یہ وہ وقت ہے کہ سب کو اپنے اندر جاننے کی ضرورت ہے۔ خدا ہمیں اس بات سے آگاہی بخشے کہ ہم دنیا کے ساتھ مل کر دہشت گردی جیسی لعنت پر قابو پاسکیں۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||