میرا صفحہ: پاکستان کا دفاع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سات جولائی کے لندن بم دھماکوں کے بعد دنیا میں پاکستان کی جانب پروپیگنڈا جاری ہے، برطانیہ کی سڑکوں میں تعصب آمیز نعرے عام ہیں۔ دہشت گردی مخالف جنگ میں کی گئی کوششیں اور قربانیاں بھلادی گئی ہیں۔ چاہے پاکستان مغرب کے لئے جتنا بھی کچھ کرے، اسے ہی تمام دہشت گرد کارروائیوں کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے، کشمیر سے مصر تک۔ اس سے نمٹنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں۔ ایک، قلیل المدتی لائحۂ عمل کے تحت پاکستان کو مغرب اور باقی دنیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے، کیوں کہ ایشیائی طاقتیں خاموشی اختیار کی ہوئی ہیں اور انتظار کررہی ہیں کہ پاکستان کا اختتام کیوں کر ہوگا۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف مغربی ممالک کے مطالبات ماننے کی کوشش کرتے رہیں، ہماری قیادت انہیں مکمل حمایت کی ہمیشہ کی طرح یقین دہانی کراتی رہیں گی۔ دو، طویل المدتی لائحۂ عمل کےتحت ہماری قیادت پر یہ بات واضح نہیں ہے کہ کیا اسے اتنا وقت ملے گا کہ پاکستان میں کوئی طویل میعاد والی پالیسی پر عمل کیا جاسکے۔ پھر بھی ہمیں حقیقت پسندانہ طور پر ایک قابل عمل مقصد کے لئے کام کرنا پڑے گا: ہمیں اپنی داخلی پالیسی صحیح کرنی ہوگی، اپنی قومی زندگی کے مختلف کرداروں کے رول پھر نظرثانی کرنی ہوگی۔ اگر ہم اپنے سیاسی کلچر کو پختہ نہیں بناسکتے، تو موجودہ رہنماؤں کی اقتصادی پالیسیوں پر پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔ چین کی طرف اقتصادی ترقی کے کچھ برسوں بعد سیاسی اصلاحات کی کوشش کرنی ہوگی۔ مذہبی اور دیگر جماعتوں کے کردار پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ممنوعہ تنظیموں کے خلاف موجودہ کارروائیاں مثبت سمت میں ہیں۔ لیکن کامیابی تبھی ہوگی جب ان پر ثابت قدم رہا جاسکے۔ اعلیٰ اتھارٹی کی جانب سے ہدایات کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے سرحد اور بلوچستان میں برسراقتدار جماعتوں کی جانب حساس رویہ رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائیوں کے اعداد و شمار صرف پنجاب سے متعلق ہیں۔ اسی طرح کی کارروائیاں پاکستان میں مدرسوں کی مالی فراہمی اور ان کے مستقبل پر اثر انداز ہوگیں۔ مدرسوں سے غیرملکی طالب علموں کو ملک بدر کرنے کے اقدام سے پہلے ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ بنیادی مسئلہ کیا ہے: مدرسوں کے مقاصد کیا ہیں؟ جب ہم ان اداروں کی ضرورت اور ڈیفینیشن پر اتفاق کریں گے تو اس سے ہمیں اپنے مستقبل کی تشریح میں مدد ملے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی اداروں کو ان پالیسیوں پر عمل کرنے کے لئے راضی کیا جائے۔بیوروکریسی کی جانب سے صحیح طور پر عمل نہیں کیا گیا تو کامیابی نہیں ملے گی۔ سیاسی جماعتیں پارٹنر کی حیثیت سے کام کرسکتی ہیں، تاکہ عدم تشدد اور جدیدیت کو ان کے منشور میں شامل کیا جاسکے۔ وہ ایسا کرتے رہے ہیں اور کر سکتے ہیں۔ انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں ناکامی کے خدشے کو ترک کرنا ہوگا۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم مسلمان ہیں، ہاں ہم ہیں! ہمیں فخر ہے کہ ہم پاکستانی ہیں، ہاں ہم ہیں! تو پھر ہم پاکستان اور اسلام کی جانب اپنے رویے میں معذرت خواہ کیوں ہیں؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم زمین تیار کریں اور تبدیلیوں کے لئے تیاری کریں۔ ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں پاکستان کا دفاع کرنا ہوگا۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||