BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 July, 2005, 12:46 GMT 17:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ :اچھائیاں، برائیاں

امریکہ :اچھائیاں، برائیاں
’امریکہ، انڈیا اور پاکستان میں بہت سی باتوں میں فرق پایا جاتا ہے‘
یوں تو امریکہ، انڈیا اور پاکستان میں بہت سی باتوں میں فرق پایا جاتا ہے، کبھی فرق اچھا اور مفید ہوتا ہے اور کبھی برا۔ آج میں انہی پر بات کروں گا۔ یہ فرق جو کہ کلچر کی تبدیلی کے باعث واقع ہوتے ہیں کبھی کبھار انڈیا اور پاکستان سے آئے ہوئے لوگوں کے لیے اچھی خاصی مصیبت کا باعث بن جاتی ہیں۔

پہلے بات کرتے ہیں اچھائیوں کی۔ سب سے پہلی بات جو کہ امریکی کلچر میں ہے وہ ہے سب کی عزت اور سب کو انسان سمجھنا۔ آپ کارپنٹر کے پاس جائیں یا برگر شاپ سے برگر لینے کے لیے، پلمبر سے بات کر رہے ہوں یا باغ میں گھاس کاٹنے والے سے، ہر کوئی گفتگو کی شروعات ’ہاؤ یو ڈوانگ؟‘ ’ہاو آر یو؟‘ سے کرتا ہے۔ عموماً وہ آپکے لباس، ہیر کٹ وغیرہ کی تعریف بھی کرتا ہے اور اگر آپ اسے اپنا حال چال تفصیل سے سنانے لگ جائیں (جیسے کہ بہت سے لوگوں کی عادت ہوتی ہے) تو وہ کبھی آپ کی بات نہیں کاٹے گا۔

سوسائٹی میں کوئی برگر شاپ میں کام کرتا ہو یا پیٹرول پمپ پر (جسے یہاں گیس سٹیشن کہا جاتا ہے) یہ بات کسی کے لیے ذلت اور رسوائی کا باعث نہیں بنتی۔ ہر معاشرے کی طرح یہاں بھی تبقاطی تقسیم ہے مگر ایک عام آدمی کو اس کے حصے کی عزت ضرور ملتی ہے۔ ہر معاشرے کی طرح یہاں بھی جرائم روز ہوتے ہیں، ریپ ہوتے ہیں، لڑائی ہوتی ہے، چوری ہو جاتی ہے مگر پھر ہر ایک کو پورا پورا انصاف بھی ملتا ہے۔

چور اگر پکڑا جائے تو وہ اس لیے نہیں چھوٹ جاتا کہ وہ کسی ’بڑے آدمی‘ کو جانتا ہے اور گولی کھانے کے بعد کوئی سڑک پر اس لیے نہیں پڑا رہتا کہ ’پولیس کا کیس ہے‘۔ جتنی یہ لوگ ایک عام آدمی کو عزت دیتے ہیں دنیا کی شاید ہی کوئی اور قوم دیتی ہو۔

اگر آپ روڑ پر جا رہیں ہیں اور پیدل ہیں تو گاڑی والا آپ کے لیے گاڑی روک کے آپ کو پہلے جانے کی اجازت دےگا بھلے ہی اس کا سگنل بند ہو جائے۔ اگر آپ سائیکل پر ہیں تو پہلے ٹرن آپ کاٹیں گے بعد میں کوئی اور، جبکہ پاکستان میں تو گاڑی والے سائیکل سوار پر چڑھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور پیدل چلنے والوں، سٹوڈنٹس یا بزرگوں کے لیے ٹریفک روک دینا انہونی ہی ہے۔

عموماً جھوٹ بالکل بھی نہیں بولا جاتا۔ اگر آپ کسی کو منہ پر کہہ دیں کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو اس سے بری بات اس کے لیے کوئی نہیں ہوگی اور اس سے زیادہ غصہ اسے کسی بات پر نہیں آتا۔ بالکل اسی طرح اگر آپ کوئی بات کہہ رہیں ہوں تو وہ آنکھ بند کر کے سچ مانی جاتی ہے۔ ایسے میں ہمارے ملکوں سے آئے ہوئے وہ حضرات جنہیں اپنی بات منوانے کے لیے ہر طرح کی مثال دینے کی عادت ہوتی ہے، انہیں بڑی پریشانی ہو جاتی ہے، کیونکہ یہاں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ’میں تو جی بس مذاق کر رہا تھا‘ یا ’میں نے تو بس ایسے ہی کہہ دیا‘ وغیرہ۔

یہاں مسجدوں میں نماز پڑھتے ہوئے یہ ڈر بھی نہیں لگتا کہ کوئی بم پھٹ جائے گا یا کوئی لوگ آکر گولیوں کی بارش کر دیں گے۔ کیا ہی بد نصیبی ہے کہ اسلام کافروں کے ملک میں زیادہ محفوظ ہے۔

جہاں امریکی کلچر میں اتنی ساری اچھائیاں ہیں وہاں کچھ برائیاں بھی ہیں۔ مثلاً ایک واقعہ ابھی حال ہی میں میری ایک دوست کے ساتھ پیش آیا۔ وہ بےچاری کیفٹیریا میں پانچ اعشاریہ پانچ ڈالر فی گھنٹے کے حساب سے کام کرتی ہے۔ کام ختم کرکے واپس جانے کی سوچی ہی تھی کہ سیڑھیوں پر ایک عمر رسیدہ خاتون نظر آئیں۔ انہوں نے سیڑھیاں اترنے کے لیے ہاتھ مانگا۔ میری دوست نے ہاتھ آگے کر دیا اور وہ خاتون اچانک خود بخود جان بوجھ کر گر گئیں اور پولیس میں شکایت کردی اور ہرجانے کا دعوی کر دیا (جسے یہاں ’سو‘ کرنا کہتے ہیں)۔ بہت سے لوگوں کا ذریعہ معاش ہی ’سو‘ کر کر کے رقم بٹورنا ہے۔ اب پولیس کہتی ہے کہ آپ ہاتھ اس لیے نہیں بڑھا سکتے کہ آپ سرٹیفائڈ ’سی پی آر‘ نہیں ہیں یا آپکی ’لائیبلٹی انشورنس نہیں ہے‘۔ اب وہ بے چاری کورٹ کے چکر کاٹ رہی ہے۔

امریکہ:اچھائیاں، برائیاں
’کیا ہی بد نصیبی ہے کہ اسلام کافروں کے ملک میں زیادہ محفوظ ہے۔‘

اگر آپ اچھا کما رہے ہیں تو کوئی جان بوجھ کر آپ کی گاڑی کے سامنے آجاتا ہے اور پھر آپ کو ’سو‘ کر دیتا ہے۔

’نِمبی‘ ایک ایسی ٹرم ہے جو یہاں کے لوگوں میں خاصی مقبول ہے۔ اس کا ترجمہ ہے ’ناٹ ان مائی بیکیارڈ‘ یعنی جو کچھ کرنا ہے کرو، مگر نمبی، یعنی میرے پچھواڑے میں نہیں۔ عراق کی جنگ، نیوکلئیر پاور، افغانستان پر ڈیزی کٹر بم، مگر ’نمبی‘۔

ہم اور آپ آئے دن ٹی وی اور نیوز میں پڑھتے رہتے ہیں کہ عراق اور افغانستان کی حمایت اور بش کی پالیسیوں کے خلاف امریکہ میں جلوس نکالا گیا۔۔ یہ سب ڈرامہ بازی ہے۔ میں نے اب تک کوئی ایک ہزار کے قریب لوگوں سے پوچھا ہے کہ افغانستان اور عراق کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے؟ سب نے (سو فیصد نے) یہی کہا کہ اگر وہ ہمارے ٹوِن ٹاور گرائیں گے تو ہم ان کا بیڑا غرق کر دیں گے۔

امریکہ کے یہ لوگ اپنی چھوٹی سی دنیا میں رہتے ہیں۔ بہت سے تو کبھی امریکہ کے باہر گئے ہی نہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ بس انہیں زندہ رہنے کا حق ہے اور باہر والے جتنے ہیں وہ سارے ’ایلینز‘ ہیں۔ کئی بار بہت سے امریکی میرے سامنے ٹوِن ٹاورز میں دو ہزار لوگوں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے رو پڑے، مگر عراق اور افغانستان میں لاکھوں لوگوں کے قتل عام کو وہ امریکہ کے پاور سے تعبیر کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ پاکستان اور انڈیا میں بھی کوئی بری امام، کے ایف سی اور بابری مسجد میں ہلاک ہونے والوں کے ذکر پر روتا ہوگا یا نہیں؟

اس طرح یہ سوسائٹی انتہائی خود غرض افراد پر مشتمل ہے جنہیں صرف اپنی زندگی کی پرواہ ہے۔ آپ کسی دوست کو فون کریں کہ میں آپکے شہر میں ہوں اور آنا چاہتا ہوں تو وہ پھٹ سے کہتا ہے کہ کھانا ساتھ لیتے آنا اور کوئی شرم بھی نہیں کرتا۔ فادرز ڈے پر سال میں باپ کو یاد کر لیتے ہیں، مدز ڈے پر ماں کو اور تھینکس گِوِنگ پر ساتھ کھانا کھا لیتےہیں۔

عورت کے حقوق کا رونا رونے والے اس ملک میں سب سے زیادہ عورت کی ہی گت بنی ہوئی ہے۔ امریکہ میں عورت نہ ہی ماں ہے، نہ ہی بہن، نہ ہی بیوی، نہ بیٹی۔ ٹین ایج کی ہوئی تو ماں باپ نے گھر سے نکال دیا۔ شادی وادی کا تو کوئی رواج ہے ہی نہیں۔ صبح سے شام آدمیوں کی طرح کام بھی کرتی ہیں اور بدلے میں کچھ نہیں۔ جتنی گالیاں اور برے الفاظ اس کلچر میں عورت کے لیے ہیں شاید انڈیا اور پاکستان میں ملکر بھی اتنے نہیں ہونگے۔

آخر میں اپنے پاکستانی اور انڈین بھائیوں سے صرف یہی کہنا چاہوں گا کہ ہمارے معاشرے میں صرف ’عزت نفس‘ کی کمی ہے۔ ہم مالی، بھنگی، موچی، کمہار، لہار، وغیرہ کو اتنی عزت نہیں دیتے جتنی دینی چاہیئے اور جتنا ان کا حق ہے۔ اگر آپ روز آتے جاتے ٹریفک کانسٹیبل کو سلام صاحب کہہ دیا کریں تو میں نہیں سمجھتا کہ اسکا دل آپ سے رشوت لینے کو کریگا کیونکے آپ نے اسے اونچے مقام پر جو بٹھا دیا ہے۔

ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی برائی ہی یہ ہے کہ ہم ہر آدمی کو انتہائی ذلت میں گرا دیتے ہیں اور جب ایک بار آدمی ذلیل ہو جاتا ہے تو وہ کچھ بھی کر گزرتا ہے۔


نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کے لئے قارئین کا ہے۔ اس صفحے پر شائع ہونے والے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ آپ بھی اگر کسی موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66کینیڈا تجھے سلام
ایک ملک کی سیرت: عفاف اظہر
66پاکستانی پاسپورٹ؟
ایک پانچ سو کا نوٹ اور ہر مشکل آسان
66امریکہ میں ہم جنس
’فری امریکہ‘ پر ذیشان عثمانی کے تاثرات
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد