سوڈان: ایک سو تیس افراد ہلا ک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوڈان کے نائب صدر اور جنوبی سوڈان کے سابق باغی رہنما جان گیرنگ کے انتقال کے بعد جنوب کے سیاہ فام سوڈانیوں اور شمال میں رہنے والےعربوں کے مابین دارالحکومت خرطوم میں ہو نے والی جھڑپوں میں اب تک ایک سو تیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ خرطوم کی افریقن انٹرنیشنل یونیورسٹی میں پڑھنے والی انتیس سالہ اینڈریا مےلینڈ جو کینیڈین شہریت رکھتی ہیں اور اس یونیورسٹی میں عربی کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ وہ شہرمیں جاری خونی فسادات کی عینی شاہد بھی ہیں۔ انہوں نے بی بی سی نیوز ویب سائٹ سے بات کی۔ یہ ان کی کہانی ہے۔ ’ پیر کو جب میں اسکول گئی تو میرے ساتھ پڑھنے والی ایک مسلمان لڑکی نے مجھ سےسوال کیا کہ کیا تم نےگیرنگ کے بارے میں کچھ سنا؟ ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ ہم سب تو جیسے صدمے کی حالت میں تھے۔ اپنی کلاس کے ختم ہونے کے بعد میں جیسے ہی باہر نکلی اچانک ہی پچاس لڑکیاس جو عبا پہنے ہوئے تھیں، بھاگتے ہوئے کیمپس میں داخل ہوئیں۔ان میں کچھ ہنس رہی تھیں لہذا مجھے صحیح طرح سے علم نہیں ہو سکا کہ کیا ہونے جا رہا ہے؟‘ ’ان میں سے ایک نے رک کر کہا کہ گیرنگ مر چکے ہیں۔ اور گلیوں میں کچھ ہو رہا ہے۔ میں اور میری ایک دوست قریب کی ایک گلی کی طرف گئےتاکہ صورت حال کا جائزہ لے سکیں جہاں سے بازارصرف سو میٹر کے فاصلے پر تھا وہاں ہم نے دیکھا کہ گاڑیوں پر سوار افراد ایک گروہ کی شکل میں جمع ہو رہے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ ایک شخص دودھ سے لدی ایک گدھاگاڑی پر سوار تھا اور اس کی گاڑی سے دودھ بہہ کر گلی کے فرش پر گرتا جا رہا تھا۔ یکایک جنوب میں رہنے والے سوڈانیوں کا ایک گروہ اس طرف آیا اور انہوں نےاس شخص پرحملہ کر دیا۔‘ ’انہوں نے اس شخص کو گاڑی سے نیچے پھینک دیا اور بہت بری طرح سے مارنا شروع کر دیا۔ وہ اس کی گاڑی پر سوار ہو گئے اور اسےشہر کے مرکزی علاقے کی طرف دوڈنے لگے۔ ہم واپس مڑے اور یونیورسٹی کی عمارت کی چھت پر چڑھ کر دیکھنے لگے جہاں تمام لڑکیاں پہلے سے موجود تھیں۔ میں نے ایک اور گروہ کو ایک گاڑی کو روکتے ہوئے دیکھا۔ گاڑی چلانے والے نےانہیں بتانے کی کوشش کی کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ مگر انہوں نے اس کی ایک نہ سنی اور اس کی گاڑی پر ڈنڈے برسانے شروع کر دیے۔‘ ’اس ہجوم نے رفتہ رفتہ بڑھنا شروع کر دیا۔ پہلے یہ مشرق کی طرف مڑے بعد میں مغرب کی طرف اور جہاں انہوں نے مخالف گروہ پر ڈنڈے، شیشے کےٹکڑے، خالی بوتلیں اور گولیاں برسانی شروع کردیں۔
مختلف سمتوں سے کالا دھواں اٹھتا دیکھائی دینے لگا اور دھماکوں اور بندوقوں کے چلنے کی آوازیں بھی سنی جاسکتی تھیں۔ میں نے یہ تماشہ کوئی ایک گھنٹے تک دیکھا۔ اس کےبعد میں نے اپنے شوہر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جو اسی کیمپس میں زیر تعلیم تھے۔‘ ’میں نے انہیں بھی ایک عمارت کی چھت پر کھڑے دیکھا۔ وہ دوسرے طالب علموں کے ساتھ یہ دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کیا ہو رہا ہے؟ ابھی کیمپس میں موجود سب لوگ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے کہ تشدد کا یہ سلسلہ کیوں شروع ہو گیا ہے، مختلف گروہ ایک دوسرے پر بندوقوں، ڈنڈوں اور شیشوں کے ٹکروں سے حملہ کیوں کر رہے ہیں، کہ سکیورٹی کےاہکاروں نےاچانک بڑے برے طریقے سے کیمپس کے بایر کھڑے لوگوں پر گولیاں برسانی شروع کر دیں۔ ایک جگہ میری نظر گئی تو میں نے دیکھا کہ کچھ طالب علم ایک شخص کو پیٹ رہے ہیں جو شکل سے ایک کالا سوڈانی نظر آتاتھا۔‘ ’دوسرے طالب علم مارنے والوں کو یہ بتا نے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ ایک نائجیرین طالب علم ہے۔ مقامی سکولوں کے طالب علم بھی اس لڑائی میں شامل ہو گئے۔ جس کے ہاتھ میں جو آیا وہ اسی سے دوسرے کو مارنے لگا۔ یہ مارپیٹ کئی گھنٹوں تک چلتی چند گھنٹوں کے بعد ہمارے پروفیسر آئے جو کہ پریشان تھے کیونکہ ہم میں سے کسی کا بھی اپنے خاندان والوں سے رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔ انہوں نے ہم سے پوچھا کہ کون اس مارکٹائی میں بھی گلی تک جانے اور پے فون تلاش کرنے کا حوصلہ رکھتاہے۔ ہم مرکزی سڑک کی طرف دوڑے تو وہاں لوگوں کو ہاتھوں میں ڈنڈے اور بندوقیں اٹھائے ہوئےدیکھا۔ ہم جس تیزی سے گئے تھے اتنی ہی تیزی سے واپس آگئے۔ اس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔ شہر کے بہت سے حصوں کی حالت خراب تھی۔ بہت سی گاڑیوں کو ٹوڑ پھوڑ کے بعد جلا دیا گیا تھا۔ ہم مرکزی سڑک کے پاس رہتے ہیں جہاں عموما کافی شوروغوغل ہوتا ہے مگر اس رات اتنی خاموشی تھی کہ ہم مینڈک کے ٹرٹرانے کی آوازیں بھی سن سکتے تھے۔ اب اگرچہ صورت حال کافی پرسکون ہوگئی ہے اور فوجی د ستوں کی ایک بڑی تعداد شہر میں موجودہے مگر فضا میں ابھی بھی تناؤ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ہر شخص عصابی تناؤ کا شکار ہے کیونکہ سنیچر کوگیرنگ کی تدفین ہونے والی ہے۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ حکومت اس صورت حال کے بعد لگائے گئے کرفیو کا دورانیہ شاید بڑھادے۔ ہم خدا سے دعا کرسکتے ہیں کہ سب اچھا ہو۔‘ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||