BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 August, 2005, 00:39 GMT 05:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوڈان، شہروں میں خوف و ہراس
سوڈان میں فسادات
نسلی فسادات میں چوراسی سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں
سوڈان کے نائب صدر اور جنوب سے تعلق رکھنے والے سابق باغی رہنما جان گیرنگ کی ہلاکت کے بعد سوڈان کے شہروں میں تیسرے روز بھی تشدد جاری رہا۔

تشدد شروع ہونے کے بعد سے دارالحکومت خرطوم میں کم سے کم چوراسی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جنوبی شہر جوبا سے بھی پر تشدد واقعات کی اطلاعات ملی ہیں اور وہاں اٹھارہ افراد کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔

ان فسادات میں آٹھ سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

بدھ کے روز سوڈان کی سکیورٹی افواج نے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش میں آنسو گیس استعمال کی اور شہر کے اوپر ہیلی کاپٹر بھی گشت کرتے رہے۔

یہ نسلی فسادات پیر کے روز جان گیرنگ کی ہیلی کاپٹر کے ایک حادثے میں ہلاکت کے اعلان کے بعد شروع ہوئے۔

جنوب سے تعلق رکھنے افراد نے اپنے رہنما کی ہلاکت پر غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے پر تشدد کارروائیاں شروع کر دیں اور شمالی شہریوں نے بھی نے ان کے جواب میں تشدد کا استمعال کیا۔

سڑکوں پر مسلح گروپوں کے درمیان جھڑپیں اور فسادات جاری ہیں۔ بہت سے شہری خرطوم چھوڑ کر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بدھ کو شہر سے نکلنے والی سڑکوں پر گاڑیوں کا رش لگا رہا۔

عالمی امدادی تنظیم ’ریڈ کراس‘ کے کارکنوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے فسادات میں ہلاک ہونے والوں کی کم سے کم چوراسی لاشیں گِنی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ افراد گولی لگنے یا ڈنڈوں سے پیٹے جانے سے ہلاک ہوئے تھے۔ ان میں سے کئیوں کو ان کی گاڑیوں پر حملہ کرنے کے بعد مارا گیا۔

جوبا کے شہر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شمالی باشندوں کے دکانوں اور گھروں پر حملے کیے گئے۔ یہ عرب نژاد باشندے برسوں سے ملک کے جنوب میں آباد ہیں لیکن اب ان کی بڑی تعداد یہ علاقہ چھوڑ کر شمالی سوڈان جا رہی ہے۔

جان گیرنگ نے جنوری میں ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تے جس سے ملک میں اکیس سال سے جاری خانہ جنگی ختم ہوئی تھی۔ انہوں نے تین ہفتے پہلے ملک کے نائب صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اب ان کی جگہ ان کی جماعت کے نئے سربراہ سالوا کیرلیں گے۔

 سلوا کیر اور سوڈان کے صدر عمر البشیر نے کہا ہے کہ جان گیرنگ کی موت حادثاتی تھی اور انہوں نے عوام سے امن کی اپیلیں کی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس واقعہ کی ایک مشترکہ تفتیش کا اعلان بھی کیا ہے۔

سلوا کیر اور سوڈان کے صدر عمر البشیر نے کہا ہے کہ جان گیرنگ کی موت حادثاتی تھی اور انہوں نے عوام سے امن کی اپیلیں کی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس واقعہ کی ایک مشترکہ تفتیش کا اعلان بھی کیا ہے۔

سوڈان میں اقوام متحدہ کے مندوب جان پرونک نے بھی کہا ہے کہ لوگوں کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ جان گیرنگ کی موت حادثے کا نتیجہ نہیں تھی کیونکہ اس شبہ کی کوئی بنیاد انہیں نظر نہیں آتی۔

سلوا کیر نے بدھ کو امریکی ایلچیوں سے ملاقات کے بعد ایک بار پھر کہا ہے کہ ان کی جماعت ملک میں امن چاہتی ہے اور وہ امن معاہدے پر قائم رہیں گے۔

جان گیرنگ کی تدفین سنیچر کے روز جنوبی شہر جوبا میں ہوگی۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر عمر البشیر بھی جنازے میں شریک ہونگے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد