سوڈان میں فسادات 84 افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوڈان کے نائب صدر اور سابق باغی رہنما جان گیرنگ کی ایک فضائی حادثے میں ہلا کت کے بعد دارالحکومت خرطوم میں فساد پھوٹ پڑے ہیں۔ جان گیرنگ کے حامیوں نے ان کی ہلاکت کے بعد اشتعال میں آ کر مخالفین پر حملے شروع کر دیے تھے۔ ان فسادات کو روکنے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا جبکہ شہر کے وسطی حصے میں جہاں مسلح بلوائی گھوم رہے تھے وہاں فوجی ہیلی کاپٹروں کو گشت کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ گزشتہ تین دن میں ہونے والے تشدد کے واقعات میں چوراسی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لوگ بڑی تعداد میں شہر چھوڑ کر جارہے ہیں جس کی وجہ سے شہر سے باہر جانے والی شاہراوں پر ٹریفک جام ہو گئی۔ جان گیرنگ کے جانشیں ساوا کیر نے لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ صدر عمر البشیر نے ایک مشترکہ کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے جو گیرنگ کے فضائی حادثے میں ہلاک ہونےکے واقع کی مکمل تحقیق کرے گی۔ اس کمیٹی میں جنوبی علاقوں کے سابق باغی رہنما بھی شامل ہیں۔ گیرنگ نے سوڈان میں جاری ا کیس سال خانہ جنگی کو روکنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیےتھے اور اس معاہدے کے تحت انہوں نے تین ہفتے قبل نائب صدر کے عہدہ کا حلف اٹھایا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||