سوڈان: گیرنگ کی ہلاکت پر فسادات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوڈان کے نائب صدر اور سابق باغی رہنما جان گیرنگ کے ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد خرطوم میں فسادات بھڑک اٹھے ہیں اور شہر کے اوپر دھوئیں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے جتھے گیرنگ کی موت پر مشتعل ہیں اور املاک پر اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔ نمائندے کے مطابق خرطوم کی سڑکوں پر بھاری تعداد میں مسلح فوجی موجود ہیں اور فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔ سوڈان کے باقی علاقوں سے بھی جھگڑوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ سوڈانی حکومت نے جان گیرنگ کے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہونے کی خبر کی تصدیق کر دی ہے اور سوڈان میں تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ گیرنگ کی موت سوڈانی عوام کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوگی۔ جان گیرنگ کے ہیلی کاپٹر کو اس وقت حادثہ پیش آیا جب وہ یوگنڈا کے صدر کے ساتھ ملاقات کرکے واپس سوڈان جا رہے تھے۔ ہیلی کاپٹر ہفتے کی صبح سے لاپتہ تھا اور سوڈان اور یوگنڈا کے حکام اسے تلاش کر رہے تھے۔ اس حادثے میں ان کے چھ ساتھی اور ہیلی کاپٹر کے عملے کے سات ارکان بھی ہلاک ہو گئے۔ خراب موسم کو حادثے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ جان گیرنگ نے تین ہفتے قبل ہی سوڈان کے جنوبی علاقوں میں جنگ بندی کے بعد قائم ہونے والی قومی یکجہتی کی حکومت میں نائب صدر کے عہدے کا حلف لیا تھا۔ انہوں نے جنوبی یوگنڈا میں بیس سال سے جاری خانہ جنگی کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور انہیں علاقے میں امن کی علامت کے طور پر جانا جاتا تھا۔ سوڈان کےصدر عمر البشیر نے کہا ہے کہ وہ امن کے اس عمل کو جاری رکھیں گے جس میں جان گیرنگ نے نہایت اہم کردار ادا کیا تھا۔ جان گیرنگ کی جماعت’ایس پی ایل ایم‘ کا کہنا ہے کہ وہ گیرنگ کی موت کو ایک حادثہ تصور کر رہی ہے۔ جماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گیرنگ کے نائب سلوا کیر میاردت اب جماعت کی قیادت سنبھالیں گے۔ سلوا کیر میاردت کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت گیرنگ کی جانب سے جنوری میں کیے گئے امن معاہدے کی پاسداری کرے گی اور انہوں نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||