BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 August, 2004, 19:45 GMT 00:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دارفور کیلئے سوڈان ذمہ دار: یو این
دارفور میں لگ بھگ پچاس ہزار مقامی باشندے مارے گئے ہیں
دارفور میں لگ بھگ پچاس ہزار مقامی باشندے مارے گئے ہیں
اقوامِ متحدہ کی تفتیش کار عاصمہ جہانگیر نے اپنی رپورٹ میں دارفور میں ہونیوالی زیادتیوں کیلئے سوڈان کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا: ’سوڈان کی حکومت۔۔۔ ایک بڑی تعداد میں لوگوں کے قتل عام کی ذمہ دار ہے۔‘

عاصمہ جہانگیر نے جو کہ پاکستان میں حقوق انسانی کی معروف وکیل رہی ہیں، ان ہلاکتوں کو اِنسانیت کے خلاف جرم قرار دیا اور کہا کہ اس سانحے میں پھنسے ہوئے لاکھوں شہریوں کو جان کا خطرہ ہے۔ گزشتہ چند مہینوں میں دارفور میں حکومت کی حمایت یافتہ عرب نژاد ملیشیا کے ہاتھوں کم سے کم پچاس ہزار لوگ مارے گئے ہیں اور دس لاکھ سے زائد بے گھر ہوگئے ہیں۔

خرطوم نے صاف اِنکار کِیا ہے کہ جنجاوید باغیوں کو اُن کی جانب سے کوئی سہارا دِیا گیا ہے۔ لیکن یہ بات سامنے آگئی ہیکہ جنجاوید ملیشیا کے ارکان کی سوڈان کی حکومت گذشتہ کئی ہفتوں سے پولیس اور نیم فوجی دستوں میں تقرری کررہی ہے۔

اسماء جہانگیر نے کہا کہ متعدد زیادتیاں پاپولر ڈیفنس فورس کے ہاتھوں ہوئی تھیں جو کہ سوڈانی فوج کے کمانڈ کے تحت کام کرتی ہے۔ جنجاوید ملیشیا کے ارکان بھی پاپولر ڈیفنس فورس میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی بار تو فوج اور جنجاوید ملیشیا کے درمیان تفریق کرنا مشکل ہے۔ عاصمہ جہانگیر کی رپورٹ نے اِس بات کی وضاحت کی کہ دارفور میں اِنسانی حقوق کی پامالی اور بحران کی جانب سوڈانی حکومت کی غفلت اور سرکاری ملازمین کا کردار بڑا ہی حیرت انگیز ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ دارفور کی ہلاکتوں کو اور اِنسانی حقوق کی پامالی کو لیکر ساری دُنیا میں واویلا مچا ہوا ہے مگر سوڈانی حکومت کا اِس طرح کاردِّ عمل دارفور کے عوام کی سراسر بے عزتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد