پابندیاں عائد کرنے پر اختلاف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے کہا ہے کہ سوڈان میں عرب ملیشیاء کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے ہزاروں افراد روزآنہ لقمہِ اجل بن رہے ہیں۔ امریکی سفیر جان ڈانفورتھ نے اقوام متحدہ کی طرف سے سوڈان کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں ایک قرار داد کی حمایت کی اپیل کی ہے۔ اس مجوزہ قرار داد میں سوڈان سے تیس دن کے اندر عرب ملیشیا کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا گیا ہے بصورت دیگر سوڈان پر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ دریں اثناء گھانا کے دارالحکومت اقرا میں تیرہ افریقی ملکوں کے سربراہوں کا ایک اجلاس ہو رہا ہے جس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان بھی شرکت کر رہے ہیں۔ اس سربراہی اجلاس میں دارفور کے بحران کو ایجنڈے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے یورپی برادری ، ایشا اور گلف کے ممالک سے دارفور کے لوگوں کے لیے مالی امداد مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ مارچ میں اس کو کل چونتیس کروڑ نو لاکھ ڈالر کی مالی امداد وصول ہوئی جو کہ اس رقم کا نصف ہے جس کی اس نے درخواست کی تھی۔ لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پندرہ میں سات ارکان نے سوڈان پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ امریکہ سوڈان کے علاقے دارفور کے بحران کے بارے اقوام متحدہ سے قرار داد پاس کروانا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں چوتھا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے اور امید ہے کہ اس مسودہ کو اس ہفتے کے آخر تک رائے شماری کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔ سوڈان کے علاقے داروفو میں جاری بحران کی وجہ سے دس لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور بائیس لاکھ افراد کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔ اب تک دو لاکھ افراد ہمسایہ ملک چاڈ کی طرف ہجرت کر گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||