BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 August, 2004, 12:20 GMT 17:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوڈان: حکومت کے حق میں مظاہرے
حکومت کے حق
مظاہرے میں ایک پرچم پر لکھا تھا ’دارفور غیر ملکیوں کا قبرستان ہوگا‘
سوڈان کے دار الحکومت خرطوم میں ہزاروں لوگوں نے دارفور میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان مظاہرین کو سوڈان کی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ مظاہرین نے کہا ہے کہ اگر غیر ملکی افواج نے سوڈان میں مداخلت کرنے کی کوشش تو وہ ان کے خلاف جہاد میں اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ کے مطابق مظاہرین نے کئی پرچم اٹھا رکھے تھے جن میں سے ایک پر لکھا تھا ’دارفور غیر ملکیوں کا قبرستان ہوگا‘۔

اطلاعات کے مطابق افریقی یونین نے سوڈان بھیجے جانے والے افواج کی تعداد تین سو سے بڑھا کر دو ہزار کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔

حال ہی میں اقوام متحدہ نے سوڈان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دارفور میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل نے ایک قرارداد میں سوڈان کی حکومت کو عرب ملیشیا کو قابو میں کرنے کے لیے تیس دن کی مہلت دی تھی۔ عرب میلیشیا پر الزام ہے کہ انہوں نے دارفور میں لاکھوں افریقیوں کو بےگھر کر دیا ہے۔

خرطوم میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بدھ کو ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے سوڈان کی حکومت کے حوصلے بلند ہونے کا اندیشہ ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سوڈان کی حکومت دارفور میں عرب میلیشیا کے ساتھ ساتھ باغیوں کو قابو کرنے کی شرط رکھے گی۔

اطلاعات کے مطابق مظاہروں میں کئی وزیر اور سیاست دان شامل تھے۔ مظاہرین جلوس کی شکل میں خرطوم میں اقوام متحدہ کے دفتر گئے۔

دریں اثناء افریقی یونین کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم سوڈان بھیجے جانے والی افواج کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی ارکان نے منگل کو بتایا کہ حکومت کے اہلکار دارفور میں بے گھر ہونے والے افریقیوں کو کیمپوں سے نکال کر انہیں زبردستی گاؤں بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’سیو دی چلڈرن‘ نامی امدادی ادارے کے مطابق مغربی دارفور کے الجنیناہ علاقے میں بے گھر افراد اور امدادی ارکان پر کئی حملے ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں سوڈانی پولیس خاصی تعداد میں موجود ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق دارفور میں اب تک تقریباً پچاس ہزار لوگ ہلاک ہو گئے ہیں اور لگ بھگ دو لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد