پاول: سوڈان کو انتباہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے سودان کو متنبہ کیا ہے کہ کہ وہ دارفور پر حملوں کا سلسلہ ختم کر دے۔ کولن پاول نے منگل کے روز سوڈان کے دار الحکومت خرطوم پہنچنے کے بعد صدر عمر البشیر سے مذاکرات کیے۔ اس اجلاس میں کولن پاول نے بالخصوص درفر کے موضوع پر بات کی۔ عرب میلیشا کے حملوں کی وجہ سے دارفور کے پورے پورے گاؤں خالی ہو چکے ہیں۔ کولن پاول کا کہنا تھا کہ تقریباً دس لاکھ لوگ اپنے گھر چھوڑ گئے ہیں۔ مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کی ایک مشترکہ اخباری کانفرنس ہوئی۔ سوڈان کے وزیر خارجہ مصطفی اسمعیل نے کہا کہ سوڈان کو یہ معلوم ہے کہ دارفر کا مسئلہ سنجیدہ ہے لیکن اس کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ان کی حکومت کولن پاول کے دورے کے ختم ہونے سے پہلے ہی کئی نئے اقدامات کا اعلان کرے گی۔ کولن پاول نے بتایا کہ ان کے سوڈان کی حکومت سے تین مطالبے تھے: اول سودان کی حکومت عرب میلیشیاؤں کو قابو کرے۔ دوم امدادی ایجنسیوں کو دارفر میں جانے دیا جائے اور تیسرا یہ کہ حکومت دارفور کے دونوں باغی تحریکوں سے مذاکرات شروع کر دے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دارفور میں اس وقت دنیا کا بد ترین بحران ہے ۔ وہاں سیاہ فام افریقیوں کے حقوق کے لئے لڑنے والی دو تنظیموں اور عرب میلیشیا میں لڑائی پچھلے سال سے جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||