سوڈان کا مسئلہ کیا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے سوڈان کے صدر سے ملاقات سے پہلے دارفر میں پناہ گزینوں کے ساتھ دو دن گزارے۔ جس کے بعد انہوں نے کہا کہ صدر بشیر نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ سوڈانی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے عرب ملیشاؤں کو ہتھیار فراہم کیے ہیں اور دارفر میں ان چھاپہ ماروں کے ساتھ نبرد آزما ہیں جو مزید حقوق کا مطالبہ کر رہیں ہیں سوڈان میں دو چھاپہ مار گروپ ہیں سوڈان لبریشن آرمی اور جسٹس اور ایکوالٹی موومنٹ اور دونوں کا تعلق حزب اختلاف کے رہنما حسن الترابی سے بتایا جاتا ہے اصل میں سوڈان میں دو تنازعے ہیں ایک اکیس سال پرانا ہے جو شمال میں اس وقت دارفر کا تنازعہ خاصی شدت اختیار کرچکا ہے جہاں حکومت سے برسرِپیکار چھاپہ مار الزام لگارہے ہیں کہ حکومت سیاہ فام افریقیوں کے مقابلے میں عربوں کو زمین اور جائیداد دے رہی ہے اور انہیں اپنے حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔ حکمت عملی کے اعتبار سے دونوں تنازعوں میں خاصا گہرا تعلق ظاہر ہوتا ہے۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ دارفر چھاپہ ماروں کی ہتھیار اٹھانے کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ جنوب میں پائے جانے والے تنازعے کا سیاسی فائدہ اٹھائیں۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایل اے کے ساتھ سمجھوتہ ہونے کی صورت میں حکومت اپنے تمام وسائل کا رخ مغرب کی جانب کر دے گی۔ اس تنازعے کی وجہ سے لاکھوں افراد اپنے گھر چھوڑ کر جا چکے ہیں اور کئی ہزار ہلاک ہو چکے ہیں اس وقت تقریبا ایک لاکھ افراد ہمسایہ ملک چاڈ میں پناہگزین ہیں۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے نے ضروری ادویات، خوراک اور دوسری ضروری اشیاء پہنچانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||