سوڈان تشدد نہیں روک رہا: عنان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ سوڈان کی حکومت ملک کے مغربی علاقے دارفور میں عرب نژاد ملیشیا کے تشدد سے مقامی باشندوں کو بچانے کی مناسب کوششیں اب بھی نہیں کررہی ہے۔ کوفی عنان نے کہا کہ اگر سوڈانی حکام جنجاوید ملیشیا کے شدت پسندوں کو غیرمسلح کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہے تو بین الاقوامی برادری خاموش تماشائی نہیں بنے رہے گی۔ عرب نژاد ملیشیا پر لگ بھگ دس ہزاروں مقامی سوڈانی باشندوں کے قتل کا الزام ہے اور لاکھوں بےگھر ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ دارفور میں تشدد روکنے کے سوڈان کی حکومت کے وعدے کو منوانے کی کوشش کی جائے۔ عنان نے کہا کہ حکومت کے حامی شدت پسند اب بھی مقامی لوگوں کو اپنے تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔ بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں سوڈان کے وزیرداخلہ عبدالمحمد حسین نے اس بات سے انکار کیا کہ دارفور میں کوئی قتل عام ہوا ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عرب نژاد ملیشیا کو غیرمسلح کرنے کا عمل طویل ہے اور صبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ وہ تشدد روکنے کے سوڈانی حکومت کے اقدمات سے مطمئن نہیں ہیں۔ مسٹر پاول جمعرات کو کوفی عنان سے ملاقات کرنے والے ہیں تاکہ اقوام متحدہ کی ایک نئی قرارداد کے مسودے پر اتفاق کیا جاسکے جس میں تشدد نہ رکنے کی صورت میں سوڈان کی حکومت کے خلاف کارروائی پر غور کیا جاسکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||