دارفور میں مسلح پولیس تعینات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوڈان کی حکومت نے ملک کے مغربی علاقے دارفور میں واقع کیمپوں میں جہاں دس لاکھ سے زائد مقامی سوڈانیوں نے عرب نژاد ملیشیا سے پناہ لی ہے، مسلح پولیس تعینات کرنی شروع کردی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ لگ بھگ پولیس کے چھ ہزار اہلکار پناہ گزینوں کی حفاظت کے لئے تعینات کیے جارہے ہیں۔ سیکیورٹی کے یہ نئے انتظامات اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان سے گزشتہ ماہ بات چیت کے بعد کیے جارہے ہیں۔ دارفور میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں رہنے والے پناہ گزیں سوڈان کی پولیس پر اعتماد نہیں کرتے ہیں کیونکہ ان کی نظر سوڈانی حکومت کے اہلکار عرب نژاد ملیشیا کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ نیویارک میں واقع انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہےکہ اب اس کے پاس ایسے دستاویزات موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سوڈان کی حکومت جنجاوید نامی عرب نژاد ملیشیا کی حمایت کرتی رہی ہے۔ دریں اثناء دارفور کے علاقے میں مقامی لوگوں کے خلاف ظلم و زیادتی کے واقعات کے ایک مقدمے میں عرب ملیشیا کے دس ارکان کو سزا سنائی گئی ہے جس کے تحت ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ لیے جائیں گے۔ قتل اور ڈاکہ زنی کے الزام میں انہیں چھ سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ دارفور کے علاقے میں لاکھوں لوگ مارے گئے ہیں جبکہ ایک ملین سے زائد لوگ عرب ملیشیا سے پناہ کی تلاش میں بےگھر ہوگئے ہیں۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ہزاروں لوگ بھوک اور بیماری سے بھی ہلاک ہوسکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||