BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 July, 2005, 07:38 GMT 12:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دارفور میں قتلِ عام ہو رہا ہے‘
کونڈالیزا رائس
’ہمیں امید ہے کہ جنوبی سوڈان میں نئی متحدہ حکومت کے قیام کے بعد علاقے کی حالت میں استحکام پیدا ہوگا‘
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس سوڈان پہنچ گئی ہیں جہاں وہ جنوبی دارفور میں پناہ گزین کیمپوں کا دورہ کریں گی۔

وہ ذاتی طور پر خواتین پناہ گزیوں سے بھی ملیں گی تاکہ ان کیمپوں میں تشدد اور زیادتی کے واقعات پر بات کر سکیں۔

سوڈان میں گزشتہ دو برس سے جاری جھگڑوں کے سبب بیس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان فسادات کا ذمہ دار حکومتی پشت پناہی میں کام کرنے والے مسلح گروہوں کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دارفور میں ہونے والے فسادات میں اب تک ایک لاکھ اسّی ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

سوڈان آمد سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ دارفور میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قتلِ عام کے سوا کچھ نہیں۔ انوں نے خرطوم روانگی سے قبل سینیگال میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کو یقین ہے کہ وہاں قتلِ عام ہو رہا ہے‘۔

کونڈالیزا رائس کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ جنوبی سوڈان میں نئی متحدہ حکومت کے قیام کے بعد اور ایک دیگر جھگڑے میں امن معاہدے کے بعد علاقے کی حالت میں استحکام پیدا ہوگا۔

News image
رائس ذاتی طور پر خواتین پناہ گزیوں سے بھی ملیں گی

رائس کے دورہ دارفور کے موقع پر ان کے ساتھ جانے والے امریکی وفد کے اراکین کا کہنا ہے کہ دارفور میں جاری تشدد میں کمی آئی ہے۔

وفد کے رکن اینڈریو نیٹسیوس کا کہنا تھا کہ ’ حملوں کی تعداد میں واضح طور پر کمی ہوئی ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اب جلانے اور لوٹنے کو زیادہ گاؤں بچے ہی نہیں‘۔

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق ان فسادات کے دوران 2000 سے زیادہ گاؤں تباہ ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد