’دارفور میں قتلِ عام ہو رہا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس سوڈان پہنچ گئی ہیں جہاں وہ جنوبی دارفور میں پناہ گزین کیمپوں کا دورہ کریں گی۔ وہ ذاتی طور پر خواتین پناہ گزیوں سے بھی ملیں گی تاکہ ان کیمپوں میں تشدد اور زیادتی کے واقعات پر بات کر سکیں۔ سوڈان میں گزشتہ دو برس سے جاری جھگڑوں کے سبب بیس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان فسادات کا ذمہ دار حکومتی پشت پناہی میں کام کرنے والے مسلح گروہوں کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دارفور میں ہونے والے فسادات میں اب تک ایک لاکھ اسّی ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ سوڈان آمد سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ دارفور میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قتلِ عام کے سوا کچھ نہیں۔ انوں نے خرطوم روانگی سے قبل سینیگال میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کو یقین ہے کہ وہاں قتلِ عام ہو رہا ہے‘۔ کونڈالیزا رائس کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ جنوبی سوڈان میں نئی متحدہ حکومت کے قیام کے بعد اور ایک دیگر جھگڑے میں امن معاہدے کے بعد علاقے کی حالت میں استحکام پیدا ہوگا۔
رائس کے دورہ دارفور کے موقع پر ان کے ساتھ جانے والے امریکی وفد کے اراکین کا کہنا ہے کہ دارفور میں جاری تشدد میں کمی آئی ہے۔ وفد کے رکن اینڈریو نیٹسیوس کا کہنا تھا کہ ’ حملوں کی تعداد میں واضح طور پر کمی ہوئی ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اب جلانے اور لوٹنے کو زیادہ گاؤں بچے ہی نہیں‘۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق ان فسادات کے دوران 2000 سے زیادہ گاؤں تباہ ہو چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||