’انسانی حقوق خطرے میں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر لوئس آربؤر نے خبردار کیا ہے کہ یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس یعنی انسانی حقوق کے عالمی معاہدے کو خطرات درپیش ہیں اور اس کی روح بڑے دباؤ میں ہے۔ جینیوا میں انسانی حقوق کا دن منانے کی تقریب میں انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ دنیا سلامتی کی خواہش اور آزادی کی ضرورت میں توازن ڈھونڈے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کو دو اہم خطرات درپیش ہیں۔ پہلا ’دہشت گردی‘ کے خلاف ردِعمل جو بقول ان کے ’کنفیوزڈ‘ یا مبہم ہے اور جس سے شہری آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسرا خطرہ انہوں نے مسلح جنگ کے علاقوں کو بتایا جہاں انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کی کمشنر نے کسی خاص ملک کی طرف اشارہ نہیں کیا کہ وہاں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی ایک علاقے یا ملک پر اس کا الزام نہیں دینا چاہتیں۔ لوئس آربؤر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انسانی حقوق کے کمیشن کو بھی مسائل درپیش ہیں جیسا کہ اس سال سوڈان کے علاقے دارفور کے مسئلے پر بحث میں ناکامی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||