دہشتگردی سے متعلق قانون پر غور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی اعلیٰ ترین عدالت ہاؤس آف لارڈز کا نو ججوں پر مشتمل بینچ پیر کو دہشت گردی کے حوالے سے کسی شخص کو بغیر مقدمہ چلائے غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھنے کے قوانین کا جائزہ لے گا۔ برطانیہ میں انسداد دہشت گردی اور کرائم اینڈ سکیورٹی ایکٹ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔ ان قوانین کے تحت کئی لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ ان قوانین کے تحت حراست میں لیے گئے نو مشتبہ غیر ملکی شدت پسند اس قانون کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں چیلنج کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ عدالت میں ان قوانین کا دفاع کریں گے۔ برطانوی حکومت کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان قوانین کی ضرورت ہے۔ اور قومی سلامتی کے حوالے سےگرفتار کیے گئے لوگوں کے مقدمات کی سماعت میں خفیہ معلومات کو افشا نہیں کیا جا سکتا۔ برطانیہ کی اعلیٰ ترین عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا ایسا قانون ملک میں نافذ کیا جا سکتا ہے جس کے تحت کسی بھی فرد کی آزادی کو بغیر وجہ بتائے ختم کیا جا سکے؟ ہاوس آف لارڈز کا بینچ یہ بھی فیصلہ کرئے گا کہ کیا تشدد کے ذریعے حاصل کی گئی شہادت کی بھی کوئی قانونی حیثیت ہے یا نہیں؟ ایمنیسٹی انٹرنیشنل بھی ایک فریق کے طور اس مقدمے میں پیش ہو رہی ہے اور اس نے ان قوانین کے خلاف اعتراضات کو تحریری شکل میں عدالت کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانیہ یورپین یونین کا واحد رکن ملک ہے جس نے یورپین یونین کنوینشن کے انسانی حقوق کے متعلق آرٹیکل پانچ کی ابھی تک توثیق نہیں کی جس کے تحت کسی بھی شخص کی آزادی کو قانونی جواز پیش کیے بغیر سلب نہیں کیا جا سکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||