’فوج میں بچوں کی بھرتی بند کی جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوق انسانی کی تنظیموں کے ایک گروپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ بچوں کو فوج میں بھرتی کرنے والوں کو جرائم کی عالمی عدالت میں پیش کیا جائے۔ ’بچوں کے فوج میں بھرتی کیے جانے کے خلاف اتحاد‘ نامی تنظیموں کے گروپ نے اس سلسلے میں ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں گزشتہ تین سال کے دوران بائیس مختلف تنازعات میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو جنگجووں کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم عمر افراد کی بھرتی کرنے والے ممالک میں امریکہ اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں پانچ بر اعظموں کے ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فی الوقت عراق اور افغانستان میں نو عمر امریکی افراد بطور فوجی استعمال نہیں کیے جارہے لیکن ان دونوں جنگوں کے ابتدائی مراحل میں امریکی فوج میں 62 سترہ سالہ لڑکے شامل تھے جنہیں ان جنگوں پر بھیجا گیا تھا۔ اگرچہ یہ اتنی بڑی تعداد نہیں ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس سے پوری دنیا کو غلط پیغام ملتا ہے۔ ان تنظیموں میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ بھی شامل ہیں۔ تنظیموں کے مطابق تین سال قبل پیش کی جانے والی رپورٹ کے مقابلے میں بچوں کے فوج میں بھرتی کیے جانے میں معمولی کمی ہوئی ہے۔ تاہم یہ رجحان ابھی موجود ہے اور نئے نئے تنازعات کے باعث بچوں کو فوج میں بھرتی کرنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ برطانیہ اور چند دیگر ممالک سولہ سال سے کم عمر افراد کو فوج میں بھرتی تو کرلیتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اٹھارہ سال سے پہلے انہیں میدان جنگ میں نہیں بھیجتے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سولہ سالہ افراد کو فوج میں شامل کرنے کا عمل بھی بند کیا جائے۔ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ کم عمر فوجیوں کی زیادہ تعداد ایسی ہے جس کا تعلق باغی اور جنگجو گروہوں سے ہے۔ زیادہ تر کو زبردستی بھرتی کیا جاتا ہے جبکہ کچھ رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو اسلحے سے لیس کرلیتے ہیں۔ بی بی سی ریڈیو فور کے مطابق لائیبیریا کے تنازعے میں باغی گروہ بہت ہی کم عمر بچوں کو جنگی مقاصد کےلیے استعمال کررہے ہیں۔ ان بچوں کی کچھ تصاویر برطانوی اخبارات میں شائع ہوئی ہیں جو کہ کافی پریشان کن ہیں۔ کچھ بچے تو اتنے چھوٹے ہیں کہ وہ صحیح طور پر بندوق بھی نہیں اٹھا سکتے۔ ماضی میں صدامن حسین کی لبریشن آرمی میں بھرتی کیے جانے والے ایک شخص نے بتایا تھا کہ اسے نو سال کی عمر میں فوج میں بھرتی کیا گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ’اب اخبار میں بچوں کی یہ تصاویر مجھے میرے خوفناک ماضی کی یاد دلارہی ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||