دارفور میں شرح اموات بڑھ رہی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دارفور کے علاقے میں تشدد کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد میں سے دس ہزار کے قریب ہر ماہ تشدد اور بیماری سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق امدادی کوششوں کے باوجود دارفور میں موت کی شرح خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ہنگامی امداد کو فوراً بڑھانے کی ضرورت ہے۔ دریں اثناء یورپی یونین نے اقوامِ متحدہ سے کہا ہے کہ وہ دارفور میں نسل کشی کے الزامات کی تحقیقات کرے۔ برسلز میں ایک میٹنگ میں یورپی یونین کے وزراء خارجہ نے سوڈان کی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اس نے مغربی سوڈان کے دارفور کے علاقے میں ملیشیا کو غیر مسلح نہ کیا تو اس پر اقتصادی پابندیاں لگا دی جائیں گی۔ گزشتہ ہفتے سوڈان نے امریکی وزیرِ خارجہ کے اس الزام کو مسترد کر دیا تھا کہ دارفور میں نسل کشی ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||