دارفور میں ملیشیا متحرک: رپورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہیومن رائٹس واچ نے سوڈان کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے وعدے کے برعکس دارفور میں مقامی باشندوں کے خلاف زیادتی کرنیوالی عرب نژاد جنجاوید ملیشیا کے ارکان کو ابھی بھی نہیں روک رہی ہے۔ انسانی حقوق کا دفاع کرنیوالی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ابھی بھی دارفور کے علاقے میں جنجاوید ملیشیا کے سولہ کیمپ موجود ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ سولہ میں سے پانچ کیمپ سوڈانی فوج کی مدد سے چل رہے ہیں۔ سوڈان کے مغربی علاقے دارفور میں جنجاوید ملیشیا کے ارکان نے لگ بھگ پچاس ہزار مقامی لوگوں کو ہلاک کردیا ہے اور دس لاکھ سے زائد بےگھر ہوگئے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ جنجاوید ملیشیا کے لوگوں کی سوڈانی فوج اور پولیس میں بھی تقرری کی جارہی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظورشدہ ایک قرارداد کے تحت سوڈان کی حکومت کو اکتیس اگست تک جنجاوید ملیشیا کو غیرمسلح کرنے کی ڈیڈلائن دی گئی ہے۔ اگلے ہفتے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں ایک رپورٹ پیش کرے گا کہ سوڈان کی حکومت کونسل کی قرارداد پر عمل کررہی ہے یا نہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک ٹیم اس وقت دارفور کا دورہ کررہی ہے تاکہ زمینی حقائق کا پتہ چلایا جاسکے۔ سلامتی کونسل نے سوڈان کی حکومت کو انتباہ کیا ہے کہ اگر جنجاوید ملیشیا کو غیرمسلح کرنے کے لئے اقدامات نہیں کیے گئے تو پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔ بیشتر انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے ادارے پابندیوں کے حق میں ہیں جبکہ مسلم اور افریقی ممالک کا کہنا ہے کہ سوڈان کو وقت دیا جانا چاہئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||