BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 August, 2004, 01:51 GMT 06:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیک سٹرا کا دارفور کا دورہ
برطانوی وزیر خارجہ اس وقت سوڈان میں ہیں
برطانوی وزیر خارجہ اس وقت سوڈان میں ہیں
برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا کا کہنا ہے کہ وہ سوڈانی حکومت سے دارفور میں مقامی باشندوں کے ساتھ ہونیوالی زیادتیوں کو روکنے کے لئے مزید کچھ کرنے کو کہیں گے۔ جیک سٹرا اس وقت سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں ہیں۔

خرطوم میں وہ پیر کے روز نامہ نگاروں سے بات کررہے تھے۔ جیک سٹرا منگل کے روز سوڈانی صدر عمر البشیر سے ملاقات کرنے سے پہلے دارفور میں پناہ گزیں کیمپوں کا دورہ کرنیوالے ہیں جہاں مقامی باشندے عرب نژاد ملیشیا جنجاوید کی زیادتیوں کی شکار ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ ایسے وقت سوڈان کا دورہ کررہے ہیں جب ایک ہفتے کے اندر اقوام متحدہ یہ فیصلہ کرنیوالا ہے کہ دارفور میں زیادتیاں نہ رکنے کی صورت میں سوڈان پر کیا پابندیاں عائد کی جائیں۔ امریکہ کی پیش کردہ ایک قرارداد کے تحت جو سلامتی کونسل نے منظور کی تھی، تیس اگست تک سوڈان کی حکومت کو اقدامات کرنے کی ڈیڈلائن دی گئی ہے۔

منگل اور بدھ کے روز سوڈانی رہنماؤں سے مذاکرات کے دوران جیک سٹرا اس بات کا وعدہ لینے کی کوشش کریں گے کہ دارفور کے پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ دارفور میں حکومت کی حمایت یافتہ عرب نژاد ملیشیا کے ہاتھوں ہزاروں لوگ مارے گئے ہیں اور ایک ملین سے زائد بےگھر ہوگئے ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر سوڈان کی حکومت نے دارفور میں زیادتیوں کو روکنے کی کارروائی میں پیش رفت دکھائی تو بین الاقوامی برادری امداد مہیا کرے گی۔ انہوں نے سوڈانی حکومت کے اس فیصلے کی تعریف کی جس کے تحت امنیسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسے امدادی اداروں کے کارکنوں کو ویزا دیا گیا ہے۔

دریں اثناء پیر کے روز نائجیریا کے دارالحکومت ابوجہ میں دارفور مسئلے کے حل کیلئے ہونیوالے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ مذاکرات میں سوڈانی حکومت کے نمائندے اور دارفور سے دو باغی گروہ شرکت کررہے ہیں۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی مسائل کا حل چاہتے ہیں، مثال کے طور پر اقتدار میں حصہ جبکہ حکومت صرف سیکیورٹی کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں اس بات پر بھی اختلاف ہے کہ افریقن یونین کے دوہزار امن فوجیوں کو دارفور میں تعینات کیا جائے۔ سوڈانی حکومت افریقی ممالک کے امن فوج کے حق میں نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد