BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 June, 2005, 12:30 GMT 17:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میری ڈائری: توانائی گھر کیا ہے۔۔۔

پاکستان کے ایک گاؤں کی ایک طالبہ
پاکستان کے ایک گاؤں کی ایک طالبہ
میرا نام شارق مشہدی ہے۔ دہلی اسکول آف ایکونامِکس سے سماجیات میں ایم اے کرنے کے بعد میں نے ریاست جھارکھنڈ کے شہر جمشیدپور میں بریج گیپ فاؤنڈیشن نامی ادارہ قائم کیا تاکہ مسلم برادری کے درمیان بچوں کے فلاح و بہبود لئے کام کرسکوں۔ ہم لوگ گیارہ ستمبر کو مذہبی دہشت گردی کے خلاف ’یوم عدم برداشت‘ یعنی زیرو ٹالرنس ڈے کے طور پر منانے کے لئے مہم بھی چلارہے ہیں۔

آج کل میں ریاست راجستھان میں ’سیوا مندر‘ نامی ایک این جی او سے منسلک ہوں جہاں ہم ادے پور کے چار گاؤوں میں مختلف برادریوں کے درمیان بہتر تعلقات کے لئے کوشش کررہے ہیں۔ کراوارا نامی گاؤں میں مسلم، پٹیل، براہمن اور پرجاپت برادریاں رہتی ہیں اور ان کے تعلقات گجرات فسادات کے بعد سے ٹھیک نہیں ہیں۔ زیادہ تر مسلم نوجوان روزی روٹی کے لئے کویت جانا چاہتے ہیں۔ دائچارہ گاؤں میں پٹیل برادری اور کچھ پسماندہ طبقے کی برادریاں بستی ہیں۔ یہاں خواتین گھریلو اور زراعتی کام کرتی ہیں۔ لڑکیوں کو صرف گاؤں میں ہی پرائمری اور مِڈل اسکول تک پڑھنے دیا جاتا ہے اور تعلیم مکمل کرنے کے لئے دوسرے گاؤں تک نہیں جانے دیا جاتا۔ کچھ ایسے ہی حالات پہاڑا اور کھراریوادا گاؤں میں ہیں۔

ہم نے ایک اینرجی ہاؤس یعنی توانائی گھر نامی مرکز قائم کیا ہے۔ اسے ہندی میں ہم اُرجا گھر کہتے ہیں جو کہ نوجوانوں، بچوں اور خواتین کے لئے ایک مشترکہ جگہ ہے جہاں ہم مختلف لوگوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شروع میں ہم کمپیوٹر، ٹی وی، کیمرہ اور میوزِک سیسٹم وغیرہ فراہم کررہے ہیں تاکہ ان کے ذریعے خواتین اور بچے اپنے تخلیقی ذہن کا استعمال کرسکیں۔ آنے والے دنوں میں ہم کمیونیٹی ریڈیو، انٹرنیٹ، ریکارڈِنگ اور ایڈیٹنگ کے سامان مہیا کریں گے تاکہ لوگ اسے بہتری کے لئے استعمال کرسکیں۔

توانائی گھر اس گاؤں کے لوگوں کے لئے وسائل کے ایک مرکز کے طور پر ابھر کر آیا ہے۔ ایک کتاب گھر بھی ہے جس سے بچے اور دیگر افراد فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ یہاں مختلف موضوعات پر ایک ہزار دو سو کتابیں مہیا ہیں۔ گاندھی جینتی، افطار پارٹی، زیرو ٹالرنس ڈے، عید۔دیوالی ملن، ہولی ملن، وغیرہ پروگراموں کے ذریعے ہم مختلف برادریوں کے لوگوں کو ایک جگہ ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ ایسے ہی دیگر پروگرام ہم منعقد کرتے ہیں جو میں آپ کو اپنی آئندہ ڈائری میں بتاؤں گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مثبت اقدام کے ذریعے اپنے علاقے میں کچھ کریں۔



نوٹ: کیا آپ بھی اپنے معاشرے کی بہتری کے لئے کچھ کررہے ہیں؟ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت اگر آپ کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66میرا صفحہ: نصاب
پاکستان میں اقلیتوں کے لئے کتابوں کی کمی
66میرے ننھے فرشتے۔۔۔
عراق میں بچوں کی ایک نرس کی کہانی۔۔۔
66میرا شہر
قاہرہ سے فیضہ حسن کا مراسلہ
66مختصر سفرنامہ
’جیسا سنا تھا، دیکھا نہیں‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد