میں ٹی وی نہیں دیکھتا: عبدالبشیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں نے نویں جماعت میں سکول چھوڑ دیا۔ میرا خیال ہے کہ میری سکول کی زندگی بہت آوارہ تھی، کسی کا احترام نہیں تھا، حتٰی کہ میں نے اپنے والدین تک کا احترام کرنا چھوڑ دیا تھا لیکن یہاں آنے کے بعد ہمیں اسلام نے بہت کچھ دیا۔ انسانیت کا احترام کا مجھ پتہ چلا۔ اپنے والدین اور بڑوں کا احترام کیسے کیا جاتا ہے میں نے یہ سب چیزیں یہاں سیکھی ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں میں اور میرے جیسے دوسرے بچے جو مدارس میں پڑھتے ہیں وہ کسی طرح بھی اُن بچوں سے پیچھے نہیں ہیں جو دوسرے سکولوں میں پڑھتے ہیں۔اس کے علاوہ میں سمجھتا ہوں کے مدارس میں پڑھنے والے ملک اور انسانیت کے بارے میں سکول اور کالجوں میں پڑھنے والوں سے زیادہ اچھی، بہتر اور مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ ہمارے وہ حکمران جو سکولوں کالجوں سے پڑھے ہوئے ہیں اُس میں بہت سارے بدعنوانی میں ملوث ہیں لیکن بدعنوانی کی فہرست میں علماء کا نام نہیں ہے حالانکہ وہ بھی سیاست میں ہیں۔ میں یہاں قرآن، حدیث، فقہ اور بہت سے دوسرے اسلامی علوم سیکھتا ہیں اس کے علاوہ باقاعدہ کھیلتا بھی ہوں۔ میرا اس مدرسے میں چوتھا درجہ ہے ابھی مجھے اپنی ڈگری مکمل کرنے میں مزید چار سال لگیں گے۔ مجھے یہ مدرسہ اپنے گھر سے بھی زیادہ عزیز ہے یہاں دوست ہیں سب کچھ ہے۔ ہر چیز کا ایک مکمل نظام ہے۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ اس مدرسے سے تعلیم کے حصول کے بعد اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لوں گا اور پھر اپنے گاؤں واپس جاؤں گا۔ ہمارا علاقہ بہت پسماندہ ہے اور لوگوں کو دین کا کوئی علم نہیں ہے۔ میں اپنے گاؤں میں ایسا نظام تعلیم متعارف کروانے کی کوشش کروں جس میں دین کی تعلیم بھی اور دنیا کی بھی۔ میری اور دینی مدارس میں پڑھنے والوں کی سوچ دنیا کے بارے میں مثبت ہے، ہمارے بارے میں یہ جو سمجھا جاتا ہے کہ ہمارا نظام تعلیم فرسودہ ہے یہ اچھی بات نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ کہتے ہیں جو دین سے دور ہیں، اس ملک پاکستان اسلام کے نام پر حاصل ہوا تھا لیکن یہاں اسلام نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہاں یہود و ہنود کے طریقے تو رائج کیے گئے لیکن اسلام سے دوری ہے اس لیے جب اسلام کے حوالے بات چیت کی جاتی ہے تو لوگ اس نظام کو فرسودہ کہتے ہیں۔ لیکن بعض بڑے بڑے عہدوں پر فائز لوگ جب علماء کے پاس بیھٹتے ہیں تو وہ اُن باتوں کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ اُن کی قدر بھی کرتے ہیں۔ میں ٹی وی نہیں دیکھتا لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کے مجھے دنیا کا کچھ پتہ نہیں ہم ہر چیز سے واقف ہیں۔ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہم ہر چیز سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمارے مدرسے میں اخبارات ہیں کمپیوٹر ہے انٹرنیٹ ہے۔ اور اس کے علاوہ ہم سب دوست بھی دنیا کے معاملات پر بات چیت کرتے ہیں۔ دینی کی تعلیم کی طرف آنے سے میں بہت مطمعن ہوں۔ اسی بارے میں: (عبدالبشیر نے ہمارے نمائندے محمد اشتیاق سے بات چیت کی۔) نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||