میری زندگی: سکول سے مدرسے تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میری عمر بائیس سال ہے۔ میں نے پہلے پانچویں جماعت تک سکول میں تعلیم حاصل کی اور اُس کے بعد سکول چھوڑ کر میں نے قرآن حفظ کیا اورایک بار پھر میں نے سکول میں داخلہ لے لیا اور میٹرک تک تعلیم مکمل کی۔ اپنے تعلیمی بورڈ میں میرے میٹرک میں کافی نمایاں نمبر تھے، لیکن میں نے محسوس کیا کہ ہمارے ملک کا تعلیمی نظام بہت فرسودہ ہے اور وہ اس قابل نہیں ہے کہ وہ ایک انسان کواچھا انسان بنا سکے۔ ہمارا تعلیمی نظام ایک انسان کو پڑھا لکھا تو بنا سکتا ہے لیکن ایک اچھا انسان نہیں بنا سکتا اور میرے خیال میں ایک اچھا انسان بنانے کے لیے ہمارے جو دینی مدارس ہیں ان کا نظامِ تعلیم اچھا ہے جو انسان کو ایک اعلی تعلیم یافتہ بھی بناتا ہے اور ایک اچھا انسان بھی۔ اس طرح میں نے ایک مدرسے میں داخلہ لیا کہ ایک اچھا انسان بن سکوں۔ میں یہاں گزشتہ پانچ سال سے پڑھ رہا ہوں۔ الحمداللہ ہمارا معاشی نطام بلکہ ٹھیک ہے۔ میرے والد صاحب ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں اور میرے تمام بھائی بھی برسرے روزگار ہیں۔ میں اس لیے یہاں نہیں آیا کہ میں سکول کی تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا تھا بلکہ اپنے شوق سے یہاں آیا ہوں۔ جس طرح سے ہمارے ملک کو ایک اچھے ڈاکٹر یا انجیئر کی ضرورت ہے اُسی طرح ہمارے ملک کو اچھے عالم دین کی بھی ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح ایک ڈاکٹر بن کر ایک انسان اپنے دین کی اور لوگوں کی اچھی خدمت کر سکتا ہے، میں ایک عالم دین بن کر لوگوں کی خدمت کر سکتا ہو۔ ہمارے کشمیر میں بعض ایسے علاقے بھی ہیں جہاں سکول نہیں ہیں۔ میری یہ خواہش ہے کہ یہاں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں اپنے علاقے میں ایسا نظام تعلیم متعارف کروں جس میں دنیاوی تعلیم بھی ہواور دینی تعلیم بھی۔ یہاں ہمیں مختلف علوم پڑھائے جاتے ہیں جن میں سر فہرست قرآن ہے، حدیث ہے، فقہ ہے اور اس کے علاوہ منتق ہے، جو کہ انسان کو بات کرنے کا ڈھنگ سکھاتا ہے اور میرے خیال میں یہ تمام علوم ایک انسان کی علمی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے مدرسے میں کمپیوٹر بھی ہے اور میں کمپیوٹر کے بارے میں بنیادی معلومات سے واقف ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم کسی طرح سے بھی دوسرے دنیاوی علوم حاصل کرنے والوں سے پیچھے نہیں رہینگے۔ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ اگر کوئی شخص ڈاکٹر یا انجیئر نہیں بنے گا تو اُس کی معاشی ضروریات پوری نہیں ہونگی۔ باقی جہاں تک باہر کی دنیا کا تعلق ہے تو ہمیں باہر کی دنیا سے خیر کی توقع نہیں ہے۔ انگلستان میں جو کچھ ہوا ہے میرا تو خیال کہ یہ عراق کی صورت حال کی وجہ سے ہے۔ آپ نے اخبارات میں دیکھا ہوگا کہ بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرنے والوں نے بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کر لی۔ لیکن آپ نے یہ خبر کبھی نہیں پڑھی ہوگی کہ کسی دینی مدرسے سے فارغ طالب علم نے خودکشی کی ہو، کیونکہ ان کی خدا مدد کرتا ہے اور ان پر کبھی یہ نوبت نہیں آتی کہ وہ فاقے کریں۔ ہمارے جو سیاستدان اور لیڈر ہیں یہ سب کہ سب بھی تو اعلی تعلیم یافتہ ہیں لیکن انہوں نے ملک کو کچھ نہیں دیا بلکہ ان میں سے اکثر بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ہماری اسمبلیوں میں بیٹھنے والے علما میں سے کسی کا نام کرپشن کی لسٹ میں آپکو نہیں ملے گا۔ میں نے دس سال سکول میں لگائے لیکن مجھے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ میں انگریزی نہیں بول سکتا ہوں۔ لیکن اب میں یہاں پانچ سال لگائے ہیں۔ میں عربی اچھی طرح سمجھ لیتا ہوں اور بول لیتا ہوں۔ میں اپنے تمام علوم پر مہارت رکھتا ہوں۔ میں قرآن کو دنیا کے سامنے اچھی طرح بیان کر سکتا ہوں اس تعلیم سے میرے اندر اعتماد آیا ہے۔ ہمارا یہ کورس آٹھ سال کا ہے۔ ابھی مجھے مزید تین سال اس میں لگانے ہیں اور اس کے بعد دو مزید سال کا ایک اور کورس ہے۔ جو کہ پی ایچ ڈی کے برابر ہے اور اُس کے بعد میں اپنے اس علم کو دوسروں تک پھیلاوں گا۔ ہمیں یہ جو تعلیم دی جاتی ہے اس کا یہ مقصد نہیں ہوتا کہ ہمیں کوئی بڑا عہدہ دے دیا جائے گا بلکہ اس مقصد ہوتا ہے کہ دنیا والوں کی خدمت کی جائے اور میں یہ خدمت کروں گا۔ میں اپنا کوئی ادارہ بناؤں گا جس میں غریب بچوں کوتعلیم دونگا۔ مجھے اُمید ہے کہ میں اس طرح سے اچھی زندگی گزار سکتا ہوں۔ (سید تجمل اسلام جیلانی نے ہمارے نمائندے محمد اشتیاق سے بات کی۔) نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||