BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 June, 2005, 11:41 GMT 16:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترقی یافتہ ممالک اور پاکستان

ظفر احمد
ظفر احمد امریکہ میں فِزِکس میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔
میرا نام احمد ہے۔ میرا تعلق پاکستان کے ضلع جھنگ سے ہے۔ میں نے قائداعظم یونیورسٹی سے ایم ایس سی فِزِکس کرنے کے بعد اٹلی سے ہائی انرجی فِزِکس میں ڈپلوما کیا اور اب میں امریکہ میں فِزِکس میں ہی پی ایچ ڈی کر رہا ہوں۔ اس طرح میں نے دو ایسے ملک دیکھے جن کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔

ان ممالک میں رہتے ہوئے میرے ذہن میں سوالات پیدا ہوئے کہ آخر یہ ممالک اتنے ترقی یافتہ کیسے بنے؟ کیا میرا ملک بھی اتنی ترقی کر سکتا ہے؟ کیا میرے ملک کا موجودہ سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی نظام ایسا ہے کہ مستقبل میں ہم بھی ترقی یافتہ کہلا سکیں؟ کیا دنیا میں کوئی ملک ایسا ہے جس کا اخز کم و بیش میرے ملک کی طرح ہوا ہو مگر آج وہ خود کافل اور ہم سے بہت بہتر ہو؟

جہاں تک آخری سوال کا تعلق ہے تو کچھ نام ذہن میں آتے ہیں جیسے ملیشیا، جنوبی کوریا اور انڈیا۔ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ معاشی ترقی سے ہی ہر قسم کی علمی، سماجی اور معاشرتی ترقی کی راہ کھلتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کیا نظام تھا جس کے تحت ان ممالک نے ترقی اور خود کفالت حاصل کی؟ جو جواب میرے ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ان ممالک کے حکمرانوں نے اپنے ملک کے وسائل اور آمدنی کا پھل زیادہ سے زیادہ اپنی عوام تک منتقل کرنے کی کوشش کی۔

میرا ملک پاکستان افرادی قوت اور وسائل کے حوالے سے کسی بھی طرح جنوبی کوریا یا ملیشیا سے کم نہیں، تو پھر ہم اتنے ترقی یافتہ کیوں نہیں؟ اس کا جو جواب میرے ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ قائداعظم کی وفات کے بعد کھوٹے سکوں نے تمام تر وسائل پر قبضہ کیا اور ان تمام وسائل کا پھل اپنے تک محدود رکھا۔

جب فوج نے یہ دیکھا کہ کوئی بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے بلکہ اشنان کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا تو ملک کے سب سے طاقت ور ادارے کی حیثیت سے اس گنگا میں غسلِ صحت کرنے کا زیادہ حق تو ہمارا ہے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ آخر وہ کیا وجہ ہے جس کی آڑ لے کر فوج ملک پر قابض ہو سکے اور وجہ تھی کشمیر۔

فوج نے پس منظر یا پیش منظر رہتے ہوئے اس مسئلے کو ہر سیاسی اور فوجی دورِ حکومت میں پورے ملک کی سلامتی کے طور پر پیش کیا۔ اس مسئلے کی آڑ لے کر ہمارا دفاعی بجٹ ساٹھ فیصد سے زیادہ کیا گیا۔ یعنی اگر پاکستان کی آبادی ایک ہزار ہو اور ہمارا بجٹ ایک ہزار روپے ہو تو آٹھ آدمیوں (فوج) کے لیے چھ سو روپے اور نو سو بانوے آدمیوں (عوام) کے لیے چار سو روپے۔

ایک بات جو میں نے ان ممالک میں دیکھی وہ یہ ہے کہ ان کی تقریباً تمام ترقی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہے۔ ان ممالک نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں یہ ترقی فوجی بیرکس یا جی ایچ قیو میں نہیں بلکہ عوام کے لیے بنائی گئی یونیورسٹیز اور تحقیقی اداروں میں حاصل کی۔

اب جس ملک میں نو سو بانوے آدمیوں کو چار سو روپے مل رہے ہوں وہاں کیا سائنسی ترقی ممکن ہو سکے گی؟ میرے ملک کی اکثریت آبادی ناخواندہ ہے۔ وہ ان تمام حقائق سے آگاہ نہیں لیکن ظلم یہ کہ عوام جنہیں اپنا نمائندہ بنا کر حکومت کرنے کے لیے بھیجتے رہے وہ نہ صرف ایک ایک بات سے آگاہ ہیں بلکہ اس لوٹ مار میں برابر شریک رہے۔

یہ صورت حال کم وبیش آج بھی جاری ہے جیسے آرمی کی موجودہ حکومت نے، جس پر جمہوریت کا لیبل لگا ہوا ہے، ساٹھ فیصد دفاعی بجٹ کا تاثر ختم کرنے کے لیے آرمی افسروں کی پینشن کے چھتیس ارب روپے کو غیر دفاعی بجٹ میں شامل کیا ہے۔۔۔!!


نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66امریکہ میں تبلیغ
نظام الدین اور رائے ونڈ سے امریکہ تک
66تین سال کا MA
پشاور یونیورسٹی کے طلباء کی اپیل
66پاکستانی پاسپورٹ؟
ایک پانچ سو کا نوٹ اور ہر مشکل آسان
66میرا صفحہ: صحت
پانی میں آلودگی کو روکنا ضروری
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد