پشاور یونیورسٹی کے طلباء
|  |
 |  پشاور یونیورسٹی، انتظامیہ کا دفتر |
ہم پشاور یونیورسٹی کے طالب علم ہیں اور آپ کی توجہ وائس چانسلر کے آمرانہ فیصلے کی جانب دلانا چاہتے ہیں جس کے تحت ایم اے اور ایم ایس سی کا کورس تین سال کا کردیا گیا ہے۔ جبکہ ملک کی تمام دیگر یونیورسٹیوں میں یہ کورس صرف دو سال کا ہوتا ہے۔ ایک ریٹائرڈ ملٹری جنرل کے تحت چلنے والی یونیورسٹی انتظامیہ نے تجربے کے طور پر اور بغیر کسی پلاننگ اور غور و فکر کے جنوری دو ہزار پانچ سے یہ تین سالہ ایم اے اور ایم ایس سی کا کورس لاگو کردیا ہے۔ اس کے تحت پہلے دو سالوں کو بی اے اور بی ایس سی کی حیثیت ہوگی اور فائنل یعنی تیسرے سال کو ایم اے اور ایم ایس سی کی حیثیت ہوگی۔ دلچسپی کی بات یہ بھی ہے کہ پشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اس تین سالہ کورس کے لئے کوئی نصاب نہیں مرتب کیا ہے جس کے نتیجے میں کچھ شعبوں میں وہی نصاب اس سال پڑھایا گیا جو ماضی میں ایم اے یا ایم ایس سی کے پریویس ایئر میں پڑھایا جاتا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ اگلے سال ایم اے اور ایم ایس سی کے ماضی کے فائنل ایئر کا نصاب پڑھایا جائے گا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر نئے ایم اے اور ایم ایس سی کے تیسرے یعنی فائنل ایئر میں کیا پڑھایا جائے گا؟ حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ جون دو ہزار پانچ کے اواخر میں یونیورسٹی انتظامیہ نے فنکشنل انگلش کا ایک لازمی سبجکٹ شروع کردیا ہے، بالکل ایسے وقت جب امتحانات کی تیاری کا وقت ہے اور گرمی کی تعطیلات شروع ہونے والی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ فنکشنل انگلش کے شروع کے چند کلاسز میں چھٹے اور ساتویں کلاس کے لیول کا گرامر پوسٹ گریجویٹ کے کلاس میں پڑھایا گیا ہے۔ مضحکہ خیز بات ہے کہ پاکستان اسٹڈیز، فارسی، عربی، اسلامیات اور اردو کے طالب علموں کے لئے بھی فنکشنل انگلش لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اور اب حالات ایسے ہیں کہ فنکشنل انگلش کے کورس کو شروع ہوئے دو ہفتے بھی نہیں ہوئے ہیں اور اس کے امتحانات گرمی کی تعطیلات کے بعد ستمبر دو ہزار پانچ میں دینے ہوں گے، صرف اس لئے کہ ایک غلط پالیسی کو صحیح ثابت کرنا ہے۔ یونیورسٹی لیول تعلیم کے لئے یہ کس طرح کا مذاق ہے؟ اب جہاں ملک میں صرف دو سال میں دیگر طالب علم ایم اے اور ایم ایس سی کریں گے، پشاور یونیورسٹی کے طالب علموں کو یہ کورس تین سال میں مکمل کرنا پڑے گا۔ چونکہ کورس کی مدت ایک سال بڑھ گئی ہے، تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ والدین کو کورس فیس اور ہوسٹل چارج بھی زیادہ دینے ہوں گے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہئے کہ فوری طور پر اس مسئلے کا حل کرے تاکہ ان کا یہ فیصلہ سینکڑوں طالب علموں کے مستقبل پر اثرانداز نہ ہو۔
نوٹ: یہ خط بھیجنے والے طالب علموں نے اپنا نام نہیں لکھا ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت آپ اپنے کسی بھی مسئلے کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |