امریکہ کی غیرقانونی خلائی مخلوق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہیومن رائِٹس اور انسانیت کا پرچار کرکر کے نہ تھکنے والے ملک میں ’الیگل الیئن‘ کی منطق بھی خوب رہی۔ آپ نے حال ہی میں چودہ پاکستانیوں کے ڈپورٹ ہونے کی خبر پڑھی ہوگی، قطع نظر اس کے کہ ان کا کیا قصور تھا، کیا آپ الیگل الین یعنی غیرقانونی تارک وطن کے ٹرم سے واقف ہیں؟ میں تو نہیں ہوں۔ الیئن کا لفظ عموما کسی ایسی خلائی مخلوق کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی ہرے کلر کے مادے سے بنی ہو۔۔۔ مگر یہ ٹرم انسانوں کے لئے کیوں کر استعمال ہورہی ہے سمجھ میں نہیں آتا۔ گورنمنٹ کی ویب سائٹوں سے لےکر نیوز میڈیا تک ہر کوئی الیگل الیئن کا ہی رونا روتا نظر آتا ہے۔ کیا آپ انہیں ’انڈاکومینٹیڈ امیگرینٹس) یعنی غیردستاویزی تارکین وطن نہیں کہہ سکتے؟ امریکہ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ ہمیشہ سے ہی تارکین وطن کا ملک رہا ہے۔ چونتیس ملین تارکین وطن کی آبادی کے ساتھ آج امریکہ میں رہنے والا ہر گیارہواں آدمی امیگرنٹ ہے۔ اور الیگل الیئن کی پانچ ملین کی آبادی الگ ہے جس میں اکتالیس ہزار پاکستانی اور پچاس ہزار انڈین شامل ہیں۔ میرے حساب سے تو ریڈ انڈین کو چھوڑ کر باقی سارے ہی الیئن ہیں! اگر آپ ان الیگل الیئن کے حالاتِ زندگی پر نظر ڈالیں تو آپ کو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ انہیں امریکہ کی جتنی ضرورت ہے، اس سے کہیں زیادہ امریکہ کو ان کی ضرورت ہے۔ آخر آپ انہیں امریکہ رہنے میں مدد کیوں نہیں کرتے؟ یہ ہر وہ کام کرتے ہیں جو امریکہ کے معزز شہری کرنے سے کتراتے ہیں۔ روڈ کی کھدائی سے لیکر پیزہ کی ڈلیوری تک، جنیٹوریل ورک سے لیکر ہسپتالوں میں نرس اور وارڈ بوائے تک۔ یہ الیئن ہر سال ملین کی تعداد میں ٹیکس بھرتے ہیں، اور ہر قسم کی سہولیات سے محروم رہتے ہیں، نہ ہی ہسپتال جاسکتے ہیں، نہ ہی بچوں کو اسکول بھیج سکتے ہیں، اپنے اپنے ملکوں سے ترقی اور دولت کے خواب دیکھنے والے یہاں جانوروں جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ آف موٹر وہیکل ایک ڈرائینوگ لائسنس جاری کرنے والے ادارے سے بڑھ کر ایف بی آئی نظر آتا ہے۔ امریکی حکومت الیگل الین کو ڈھونڈنے اور نکالنے کے لئے جتنی محنت کررہی ہے اور پیسہ برباد کررہی ہے اس سے آدھی بھی ان کو یہاں سیٹل کرنے میں کرے تو کوئی مسئلہ باقی نہ رہے۔ امیگریشن ایک مستقل سلسلہ ہے، یہ روکا نہیں جاسکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے کیسے آسان بنایا جائے۔ میکسیکن بارڈر یا چین سے آنے والے مزدور اور پیزہ بوائے امریکہ کی معیشت میں مدد کرتے ہیں، نہ کہ امریکی شہریوں سے کچھ چھین رہے ہیں۔ اس کے بدلے میں امریکہ انہیں میڈیکل، اسکول، سوشل سکیورٹی اور دوسری بنیادی سہولیات سے محروم رکھتا ہے اور ساتھ میں الیگل الیئن کے ٹائٹل بھی دیتا ہے۔ ذیشان الحسن عثمانی امریکی وزرات خارجہ کے فُل برائٹ فیلوشِپ پر فلوریڈا میں کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||