نظام الدین سے کِسیمی تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور انڈیا میں تبلیغی جماعتوں کا کام بہت زوروں پر ہے اور بہت ساری جماعتیں ملک کے ہر کونے میں صبح، شام جاتی رہتی ہیں۔ جب امریکہ آیا تو ایک بات تو ذہن میں کنفرم تھی کہ یہاں تبلیغی جماعت والے نہیں ہوں گے اور ان کو بہت مِس کروں گا، کیونکہ یہ بہت اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ نہ مسلک کی لڑائی میں پڑتے ہیں، نہ ہی کوئی اور جھگڑا، صرف نماز۔ روزے کو قائم رکھنے کا کہتے ہیں اور اللہ اللہ کرتے ہوئے اپنی منزلوں کو لوٹ جاتے ہیں۔ مزید ان کے اخلاق بھی بہت اچھ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں تبلیغی کام کی ساری ڈوریاں رائے ونڈ سے چلتی ہیں اور انڈیا میں یہی کام نظام الدین اولیا، دلی سے ہوتا ہے۔ جون کے پہلے ہفتے میں کِسیمی جانے کا اتفاق ہوا، جس طرح پاکستان میں راولپنڈی اور اسلام آباد دونوں ’ٹوِن‘ سِٹیز ہیں، اسی طرح فلوریڈا میں آرلینڈو اور کِسیمی ہیں۔ وہاں مسجدِ تقوا میں جماعت کے ساتھ گیا تھا۔ وہاں ’زونل شوریٰ‘ تھا۔ اب ہمیں تو کچھ پتا نہیں تھا کہ یہ ’زونل‘ کونسا زون ہے اور شوریٰ کس لیے اور کیوں کر ہو رہا ہے اور کون کر رہا ہے۔ وہاں جاکر بہت سے انکشافات ہوئے۔ مثلاً نظام الدین اولیا سے ہی رائے ونڈ اور امریکہ کنٹرول ہوتا ہے۔ ہر سال باقائدہ وہاں سے ہدایات آتی ہیں کہ اس سال کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے، کہاں کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ مثال کے طور پر اس سال کی ہدایات میں بچوں کو ’مستورات‘ کی جماعت میں جانے کی اجازت نہیں ہے اور تبلیغی اجتماع کے لیے کرائے پر جگہ لینے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ پورے امریکہ کو چودہ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر زون میں مختلف سٹیٹس شامل ہیں، جیسے کہ اس زون میں جسکے شوریٰ میں میں گیا تھا، ریاست فلوریڈا، جارجیا، الاباما اور ساؤتھ کیلیفورنیا شامل تھیں۔ اسی طرح ہر زون کو مختلف ’حلقوں‘ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ فلوریڈا کے دو بڑے حلقے ہیں آرلینڈو اور میامی۔ سال میں دو بار ’زونل مشورہ‘ ہوتا ہے جس میں اس زون کی ساری سٹیٹس کی مسجدوں سے لوگ آتے ہیں۔ اس ’شوریٰ‘ میں تقریباً اسی لوگ تھے جو چار سٹیٹس کے لگ بھگ پچاس شہروں سے آئے ہوئے تھے۔ میں بہت حیران ہوا کیونکہ یہ سارے لوگ پڑھے لکھے ڈاکٹرز، انجینئرز اور پروفیسرز تھے اور اپنے ملکوں سے اتنی دور بھی اللہ کے کام میں لگے ہوئے تھے۔ بول چال کی زبان انگلش ہی تھی۔ سال میں ایک بار ’نیشنل مشورہ‘ ہوتا ہے، جو کہ اس سال ستمبر کی چار، پانچ اور چھ تاریخ کو شیکاگو میں ہو رہا ہے۔ اس زونل مشورے میں لوگوں نے، جو نظام الدین گئے تھے، اس سال وہاں کے حالات اور ہدایات بیاں کیں۔ پچھلے چھ ماہ کی کار گزاری سنی اور اگلے چھ ماہ کے ٹارگیٹس اور آئندہ ہونے والے شوریٰ کا وقت اور جگہ متعین کیے۔ تبلیغ کا کام دنیا بھر کے کاموں سے اس طرح ممتاز ہے کہ اس میں آپ اپنا پیسہ بھی لگاتے ہیں، اپنا وقت بھی اور مشکلات بھی فیس کرتے ہیں۔ میرا دل چاہتا تھا کہ ان کی مووی بنا کر پاکستان میں ٹی وی پر چلا دوں تاکہ وہ لوگ جو ویزا انٹرویو سے پہلے داڑھی صاف کروا لیتے ہیں اور شلوار قمیض اس لیے نہیں پہنتے کہ سوسائٹی میں انہیں کم تر سمجھا جائے گا، وہ دیکھ سکیں۔ اللہ سائیں نے رزق، اولاد اور عزت اور زلت کا ٹھیکا لیا ہوا ہے اور انہی کے پیچھے ہم سب سے زیادہ خوار ہوتے ہیں۔ جہاں مسلمان اپنے تبلیغی کاموں میں مصروف ہیں وہاں ہمارے ہندو بھائی بھی کچھ کم نہیں۔ میں نے جیکسن ہائٹس نیو یارک میں ’جھولے لال‘ کا زبردست جلوس دیکھا۔ جسکی وجہ سے ساری سڑکوں کو چار گھنٹے کے لیے بلاک کر دیا گیا تھا۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے لئے اگر آپ بھی امریکہ میں اپنے تجربات پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||