مدرسوں کی جانب رجحان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معاشرے میں چل سو چل کی روایت ہے، ہر کوئی ایک ہی طرف چل رہا ہے پہلے سکول پھر کالج اور یونیورسٹی، مجھے تو اُس میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی تھی لیکن جب میں نے مدارس کو دیکھا جو مختلف طریقے سے کام کر رہے ہیں ان تعلیمی اداروں میں پڑھنے سے مختصر وقت میں بہت جلد تبدیلی آتی ہے اور انسان سیکھتا بھی بہت کچھ ہے۔ اس لیے میں نے سوچا کہ میں دینی تعلیم حاصل کروں، ویسے تو میں نے میٹرک تک تعلیم سکول میں حاصل کی۔ لیکن پھر اُس کے بعد یہاں آ گیا۔ میں نے سکول اس وجہ سے نہیں چھوڑا کہ وہاں کے تعلیمی اخراجات ہم برداشت نہیں کرسکتے تھے، میرے والد الحمداللہ ڈائریکٹر جنرل آف پاکستان کمپیوٹر بیورو کے عہدے سے رٹیائرڈ ہوئے ہیں اور مجھے مالی طور پر کوئی پریشانی نہیں تھی۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا کہ مدرسوں میں وہ بچے آتے ہیں جنہیں کہیں اور جگہ نہیں ملتی۔ میں یہاں بہت اچھی تعلیم حاصل کر رہا ہوں اور بہت محنت کر رہا ہوں، دن میں تقریباً دس سے بارہ گھنٹے ہم یہاں پڑھتے ہیں۔ عصر سے مغرب کھیل کا وقفہ ہوتا ہے جس میں کھیلتے بھی خوب ہیں۔ معاشی ضروریات کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کا ذمہ اللہ نے خود لے رکھا ہے اگر کوئی لڑکا سکول یا کالج میں پڑھتا ہے تو اُس کے رزق کا بندوبست بھی اللہ تعالی ہی کرے گا اور جہاں تک مدرسوں کی بات ہے یہاں کے تمام طالبعلموں کی بھی تمام معاشی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ سکول اور کالجوں سے پڑھنے والے تو شاید دنیا کی حوس میں زیادہ گرے ہوئے ہیں جائیدادوں اور پلازوں کے جگھڑے یہ سب تو دنیاوی تعلیم حاصل کرنے والے ہی زیادہ کرتے ہیں۔ میرے خیال میں تو اب لوگ زیادہ مدرسوں کی طرف آ رہے ہیں۔ میں جس مدرسے میں پڑھتا ہوں آج سے تین چار سال پہلے یہاں تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم تھی لیکن اس تعداد میں اب دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ میں اور میری طرح کے دوسرے بچے جو یہاں پڑھ رہے ہیں وہ اپنی بھرپور زندگی گزار رہے ہیں ہماری زندگی قطعاً محدود نہیں ہے ہاں اگر میں بازاروں میں یا باہر فضول پھرنا پسند نہیں کرتا تو یہ میری اپنی سوچ ہے۔ باقی مجھے بھی دنیا کی اُتنی ہی معلومات ہیں جتنی ایک عام آدمی کو میں اخبار پڑھتا ہوں ریڈیو سُنتا ہوں اور اپنے آپکو ہم باخبر رکھتے ہیں۔ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہم اُس کے بارے میں اپنی ایک سوچ اور فکر رکھتے ہیں، یہ جو لندن میں ہوا ہم اس کی مزمت کرتے ہیں۔ میرا مقصد دین اور انسانیت کی خدمت ہے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں مدرسوں میں پڑھنے والوں کو آگے نہیں آنے دیا جاتا بلکہ اُن لوگوں کو بھی جن پاس دوسری ڈگریاں ہیں اُن کے لیے بھی ملازمتیں نہیں ہیں۔ ہم الحمداللہ ہر چیز پر عبور رکھتے ہیں آپ دیکھ لیں کہ علماء سیاست میں بھی ہیں، درس و تدریس میں بھی ہیں۔ ہمیں تو موقع دیا جانا چاہیے ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر گورنمنٹ جب کسی آسامی کا اعلان کرتے تو جہاں دیگر اہلیتوں کو دیکھاجاتا ہے وہیں انسان کی دینی اہلیت کو بھی دیکھنا چاہیے یہ بہت ضروری ہے اس سے ایک انسان کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ (بلال ظفر نے ہمارے نمائندے محمد اشتیاق سے بات چیت کی۔) نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||