عبدالہادی کرغزستان |  |
 |  کرغزستان کے عوام میں جمہوری بیداری پیدا ہوئی ہے |
دس جولائی کو کرغزستان میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں۔ان انتخابات کودو سابق سوویت ریاستوں جارجیا اور یوکرائن میں جمہوری انقلاب کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔کرغزستان کی آزادی کے بعداسکر اکائیف صدر بنے جو کہ مارچ ٢٠٠٥ تک اپنے عہدے پرڈٹے رہے۔ اس سال مارچ میں اپوزیشن اور عوام نے سابق صدر کو ایک انقلابی احتجاج کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبورکر دیا تھا۔ان پر آمریت اور کرپشن کے الزامات تھے۔ لیکن دلچسپ بات یہ کہ اکائیف کے ملک چھوڑنے کے بعد دارالحکومت بشکیک میں لوگوں نے زبردست لوٹ مار کی اور شہر کی ہر چھوٹی بڑی دکان اور مارکیٹ لوٹ لی گئی۔ سابق صدراکائیف، روس اور کئی غیر سرکاری تنظیموں نے اس ’انقلاب‘ کو سیاسی اور مجرمانہ لوٹ مار قرار دیاہے۔ بہرحال اس وقت چھ امیدوار میدان میں ہیں۔ قرمان بیک باکیو (موجودہ قائم مقام صدر)، اکبر علی اتیکیو (بزنس مین)، کینش بیک دوشی بائیو(سابق وزیر داخلہ)، جپار جیکشیو(ڈیموکریٹک موومنٹ کرغزستان کے سربراہ)، توکتائم اومیتالیوا (این جی اوز کی حامی)، جوسوپ بیک شاریپوو (سابق گورنرجلال آباد) اور تُرسُن بائی باکر اُولُو۔ عام لوگ بہت بے دلی سے کہہ رہے ہیں کہ موجودہ قائم مقام صدر باکیو ہی جیت جائیں گے۔ مارچ کے ’انقلاب‘ کے بعد کرغزستان کے سیاسی اور معاشرتی سیٹ اپ میں کافی ابتری آئی ہے۔ مثلاََ کرغزستان کے ایک اہم مارکیٹ کارا سومیں ہنگامہ، اوش شہر میں ایک ہجوم کا ایک ہوٹل پر حملہ، ایک صدارتی امیدوار کے کاغذات مسترد ہونے پر مرکزی انتظامی بلاک پر امیدوار کے حامیوں کا حملہ، ایک ترک ہوٹل پر قبضہ، کوئلوں کی ایک کان پر قبضہ، عام غیر ملکی طلباء سے بدسلوکی، تشدد اور لوٹ مار، کرغزستان کےایک پرانے قانون ساز جورگال بیک سورابلدیو کا دن دیہاڑے پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب قتل۔ اور شنید ہے کہ لوگوں کواگر نیا صدر بھی ’پسند‘ نہ آیا تو اسے بھی اکائیف کی طرح نکال دیں گے جبکہ مارچ میں سابق صدر کا گولی کا حکم دیے بغیر پرامن طور پر ملک چھوڑنے کے بعد ’عوام‘ نے جس انداز سے بشکیک میں لوٹ مار کی ہے اس سے ’پسند‘ کا معیار مشکوک ہو جاتا ہے۔ مقتول قانون ساز جورگال بیک سورابلدیو کی بیٹی کہہ رہی ہے کہ’’جمہوریت کا آغاز قتل سے نہیں ہو سکتا!‘‘ بہرحال ہم امید رکھتے ہیں کہ کرغزستان میں امن اور خوشحالی حقیقی معنوں میں آئے۔
نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |