آصف منہاس ٹورانٹو |  |
 |  پاکستان میں صحافیوں کی گرفتاری |
جنرل پرویز مشرف کی سیاست بھی عجیب ہے۔ یہ جرنیل جس نے شروع میں دعویٰ کیا تھا کہ میں ایوب یا ضیاء نہیں ہوں، اب ضیاء کے نقش قدم پر چل کر اپنے اقتدار کو طول دے رہا ہے۔ یہ ایک قدم آگے کی طرف اٹھاتا ہے تو پھر دو قدم پیچھے کی طرف۔ روشن خیالی کا ڈھنڈورا پیٹنے والا یہ جرنیل کوئی بھی روشن خیال کام ملک میں نہیں کرسکا۔ شروع میں کچھ امید پیدا ہوئی تھی کہ یہ دوسروں سے کچھ مختلف ثابت ہوگا۔ لیکن اپنے سیاسی مخالفین سے بدلہ لینا ہو، اپنی پسندیدہ پارٹی اور لوگوں کو انتخابات میں جیتوانے کے لئے سرکاری مشینری کا استعمال کرنا ہو، ’غیرجماعتی‘ بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ (ق) کے لئے ووٹ طلب کرنا، پاسپورٹ پر مذہب کا خانہ نہ بحال کرنا، مخلوط الیکشن کا کہہ کر اس سے مکرنا۔ فی الحال سن دو ہزار سات تک اپنے اقتدار کی طوالت اور اب پریس پر ہاتھ ڈالنا۔۔۔ ایک خبر کے مطابق ربوہ میں جماعت احمدیہ کے رسائل اور جرائد پر پابندی لگادی گئی ہے۔ اور پبلشرز، مینیجرز وغیرہ کی گرفتاری کے لئے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ قارئین یہ رسائل ’الاسلام ڈاٹ آرگ‘ پر موجود ہیں۔ ہم نے انہیں بار بار کھول کر دیکھا کہ شاید ان میں سے کسی رسالہ میں کوئی ایسا مواد ہو جس میں خلافِ اسلام کوئی بات ہو، جس میں ملک یا کسی اور ملک میں دہشت گردی کے لئے اکسایا گیا ہو۔ یا کوئی اور خلاف ’مشرف‘ بات ہو، ہمیں تو نظر نہیں آئی۔ لیکن مشرف کے وزیروں کو پتہ نہیں کیا نظر آیا کہ اس معصوم جماعت پر ہی ان کا زور چلتا ہے۔ غالبا اس لئے کہ انہیں معلوم ہے کہ یہ معصوم سی بےضرر جماعت ہے جو نہ تو کبھی توڑ پھوڑ کرے گی، نہ قانون ہاتھ میں لےگا اور ہے بھی ایسا ہی۔ مختلف پلیٹ فارمز پر آواز اٹھانا تو ہمارا حق ہے۔ اسے ہم استعمال کرتے رہیں گے۔ رہی بات ان اخبارات و رسائل کی پابندی کی تو وہ جنرل ضیاء نے بھی لگائی تھی لیکن ہوا کیا کہ ملک میں جماعت کے اخبارات و رسائل شروع ہوگئے۔ آپ بھی پابندیاں لگاکر دیکھ لیں ادھر ہم نے اپنا ٹیلی ویژن چوبیس گھنٹے کے لئے موبائل فون پر پیش کردیا ہے۔
نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |