نہ جانے کیا کشش ہے ممبئی تیرے شبستاں میں! | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ شہر بحر عرب پر واقع چھ جزیروں کے درمیان خلیج کو پاٹ کر بسایا گیا ہے لیکن منگل کی شام صرف تین گھنٹوں کی موسلادھار بارش نے ممبئی کو بحر عرب میں ہی تبدیل کرکے رکھ دیا۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ چند گھنٹوں میں نو سو چھیانوے میلی میٹر بارش ہوجائے اور شمال مشرقی شہر چیراپونجی بھی پیچھے رہ جائے جہاں پچانوے سال پہلے انیس سو دس عیسوی میں چھ سو اڑسٹھ میلی میٹر پانی برسا تھا۔ انتظامیہ کی آنکھیں اس وقت کھلیں جب پانی سر سے اونچا ہوگیا تھا لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ شام پانچ بجے تک تو ممبئی ڈوب گیا تھا۔ اور اس قہر سے چاہے امیر ہو یا غریب کوئی نہیں بچا۔ سمندر میں طغیانی کی وجہ سے پانی شہر کی پرانی ڈرینج لائنس سے نکلنے کے بجائے سڑکوں پر جمع ہوگیا۔ ٹرانسپورٹ کا نظام ناکام ہوگیا، لوکل ٹرینیں، بس، موٹر گاڑیاں اور دوسرے ذرائع ٹھپ پڑ گئے۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں لوگ پیدل ہی اپنی منزل کی جانب چل پڑے، ان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ نہ ہی حکومت اور شہری انتظامیہ نے اتنی موسلادھار بارش کی پیشین گوئی کی تھی۔ کچھ ہی دیر میں ممبئی کا نقشہ بدل گیا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ممبئی کے جغرافیہ کے بارے میں بتاتا چلوں۔ یہ شہر جنوب سے شمال کی جانب ایک پٹی کی شکل میں واقع ہے، اس کے مغرب اور مشرق میں بحرِ عرب واقع ہے۔ کولابہ سے مغرب میں ماہم اور مشرق میں سیون تک کو اصل ممبئی کہا جاسکتا ہے۔ یہ علاقہ لگ بھگ پندرہ کلومیٹر ہوگا، جزیرہ نما ممبئی اور مضافاتی ممبئی کو ماہم کی کھاڑی (خلیج) تقسیم کرتی ہے۔ اس کے بعد مضافاتی علاقہ شروع ہوجاتا ہے۔ جزیرہ نما ممبئی کو انگریزوں نے بسایا اور سنوارا تھا اور اس کی ترقی میں پارسی، گجراتی، مسلم میمن اور بوحرہ برادری نے کا کام کیا۔ ممبئی کے بارے میں امپیریئل گجیٹیئر آف انڈیا میں لکھا ہے کہ ’بمبے مشرق میں سب سے زیادہ خوبصورت شہر ہے اور قدرتی مناظر کی دلکش اور تجارتی و ثقافتی اہمیت کے لحاظ سے مغرب کے کسی شہر سے بھی کم نہیں ہے، اس لئے بمبے کو شہروں کی دلہن کہا جاتا ہے۔‘ سرسید احمد خان اٹھارہ سو انہتر میں انگلستان جانے کے لئے ممبئی آئے اور اس شہر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’بمبے نہایت بڑی تجارت گاہ ہے، کوئی بات بھی اس شہر میں ہندوستانی شہر کی نہیں ہے، بالکل ایک انگریزی شہر معلوم ہوتا ہے۔ تصویروں میں انگریزی شہروں اور بازاروں کے نقشے دیکھے ہیں، بالکل ہو بہو ویسے ہی ہے۔‘ لیکن انیس سو ستر کی دہائی سے ممبئی کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کیوں کہ جزیرہ نما ممبئی میں جگہ نہیں ہے، اس لئے مضافاتی علاقوں میں تیزی سے تعمیراتی کام ہونے لگے اور باندرہ اور سیون سے تھانہ اور واشی (نیو ممبئی) جیسے علاقوں میں شہر کے مقابلے میں زیادہ آبادی ہوگئی۔ ان لوگوں کی اکثریت شمالی ریاست اتر پردیش اور بہار اور جنوبی ریاست آندھرا پردیش اور تامل ناڈو سے ہے جو روزگار کی تلاش میں اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔ اس ہفتے کی بارش کے شکار یہی لوگ زیادہ بنے ہیں۔ آبادی میں اضافہ، فلک بوس عمارتوں اور فلائی اوور وغیرہ کے علاوہ ممبئی کا پرانا نظام، یہ کہنے میں مبالغہ نہ ہوگا کہ انگریزوں کی دین ہے۔ وہی سو سال پرانا ڈرینج نظام، وہی پینے کے پانی کی پرانی پائپ لائن، لوکل ٹرینوں اور بسوں کا نظام، صرف ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بہتر بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی ہے۔ ممبئی کا جو حال ہوا ہے اس کا ایک یہ سبب ہے کہ دہلی کی مرکزی حکومت نے ملک کے سب سے زیادہ انکم ٹیکس دینے والے اس شہر کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے۔ لیکن اس شہر کی یہ خاصیت ہے کہ یہ جلد ہی بحران سے ابھر آتی ہے، تب ہی تو مشہور شاعر علی سردار جعفری نے کہا تھا: نہ جانے کیا کشش ہے ممبئی تیرے شبستاں میں! نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||