BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 July, 2005, 16:04 GMT 21:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سفرنامہ: ایران کےصحرا میں

اس سفر کی مصنف کی اپنی تصویر
اس سفر کی مصنف کی اپنی تصویر
جرمنی سے پاکستان آتے ہوئے ایران کے شہر قم سے شروع کرتا ہوں۔ رات کے نو بج چکے تھے، میں نے ایک ہوٹل میں پاکستانیوں کو دیکھا، ان سے میراجاوا کے راستے پاکستان جانے کا راستہ پوچھا۔ وہ جواب نہیں دے رہے تھے، دو تین بار پوچھا مگر وہ خاموش رہے۔ آخر پاکستانی تھے، میں نے غصے سے کہا میں آپ کے کھانے کے پیسے دے دوں گا، تو ایک نے جرات کرکے بتایا کہ ہم بھی پاکستان سے اسمگل ہوکر آئے ہیں، ڈر تھا کہ پرانے بندے ادھر ہوتے ہیں انعام کی لالچ میں پکڑوا دیتے ہیں۔

کہنے لگے جو ہمیں لائے ہیں دو گھنٹے سے کہیں گئے ہوئے ہیں، وہی آپ کو راستہ بتائیں گے۔ میں انتظار کرنے لگا، پھر وہ شخص آیا، اردو بولتے تھے، راستہ بتایا۔ میں اپنے راستے پر ہو لیا، ایک گھنٹے کی مسافت تک مجھے نہ آگے کوئی گاڑی آتے ہوئے نظر آرہی تھی اور نہ ہی پیچھے سے۔ خطرے کی گھنٹی بجنے لگی، مسلمان کے پاس دعاء کے علاوہ اور کیا ہوتا ہے، میں دعا کرنے لگا، اتنے میں مجھے پیچھے سے ایک گاڑی کی لائٹ نظر آئی۔ میں سلو ہوگیا، وہ گاڑی کافی تیز تھی، مجھ سے ایک دم آگے نکل گئی جس سے میں نے راستہ پوچھنا تھا۔۔۔۔

ایک دم میں نے اپنی لائٹ بجھا دی اور بریک لگانے پر مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا، مجھے لائٹ آن کرنی چاہئے تھی، ادھر وہ لوگ بھی بریک لگا چکے تھے مگر کچھ فاصلہ تھا۔ میں نے گاڑی کافی تیزی سے واپس ٹرن کی اور بھاگا اور وہ لوگ مجھے پکڑنے کے لئے گاڑی بھگاتے رہے۔ مگر میرے پاس اسپورٹ گاڑی تھی جو کافی تیز تھی، مجھے لگا وہ فائرنگ بھی کررہے ہیں۔۔۔

میں سٹی میں ایک پیٹرول پمپ پر پہنچا، میں نے اس سے التجا کی کہ مجھے ادھر روکنے کی اجازت دو مگر نہ دی، میں کہیں دور ہوٹل کی تلاش نہیں کرنا چاہتا تھا کہ کہیں ان کے قابو میں نہ آجاؤں۔ رات روڈ پر گزاری، موسم گرمیوں کا تھا۔ صبح پانچ بجے میں پھر چل دیا۔۔۔

آپ یقین کریں ادھر سے لیکن پاکستان میں نوشکی تک روڈ ہی نہیں تھی۔ سوچا اگر وہ تھوڑی لیٹ آتے تو وہ مجھے صحرا میں پکڑ سکتے تھے۔ خیر میں نے میراجاوا بارڈر کراس کیا، پاکستان میں داخل ہوگیا، مجھے ریلوے لائن کو ہی فالو کرنا تھا، روڈ تو تھی ہی نہیں۔ دن میں چار بجے گاڑی سینڈ میں پھنس گئی۔۔۔۔

رات مجھے صحرا میں گزارنی پڑی، اس قدر ڈراؤنی آوازیں، آخر گاڑی لاک کرکے اندر چلاگیا۔ صبح اٹھا تو لیفٹ سائیڈ پر اوپر تک سینڈ آگئی تھی۔ آخر سن سے اونچے ٹیلہ پر گیا، دور جیپ نظر آرہی تھی، ہاتھ ہلایا، جیپ والوں نے بھی مجھے دیکھ لیا، جب پاس پہنچے تو تین گن مین ملیشیا کے کپڑے پہنے ہوئے اترے، میں ڈر گیا کہ اب نہیں بچنا۔۔۔۔

مجھے نہیں معلوم تھا کہ پاکستان کے بارڈر فورس ملیشیا کی شلوار قمیض پہنتے ہیں۔۔۔۔

(کاش! میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا! ہم سوچ یہ رہے ہیں کہ یہ افسانہ ہے یا سفرنامہ: ایڈیٹر)


نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66آپ کی کہانیاں
خصوصی ضمیمہ: بچھڑے ہوئے لوگ
66آپ بیتی، خواتین کی
خصوصی ضمیمہ: آپ بیتی، خواتین کی
66طلباء کی کہانیاں
ضمیمہ: علم کی تلاش میں
66گلوبلائزیشن کیا ہے
ضمیمہ: گلوبلائزیشن کی دستک
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد