BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلدیاتی انتخابات کیسے ہوئے

News image
بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی ختم ہوچکا ہے اور یقینا اتنے شفاف اور پرامن انتخابات پاکستان کی تاریخ میں دیکھے بھی نہیں گئے ہوں گے۔ مگر حزب اختلاف ہے کہ دھاندلی کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ ہم وثوق سے کہتے ہیں کہ انتخابات میں کہیں بھی دھاندلی نہیں ہوئی۔ وہ کام جو غیرشفاف انداز میں کیا جائے اسے دھاندلی کہتے ہیں اور یہاں تو شفافیت کا یہ عالم تھا کہ دنیا کے تیس سے زائد ممالک میں دیکھا جارہا تھا کہ کس طرح پولنگ عملہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف اور لوگوں کو تکلیف دیے بغیر خود ہی ٹھپے لگارہا ہے۔ کیا کوئی اسے دھاندلی کہے گا؟ یقینا نہیں۔

میں جب ٹھٹہ کی یوسی کے دھابیجی کی پولنگ اسٹیشن الھڈٹوگلڑی کے باہر روڈ پر کھڑا تھا تو شام دھندلگے میں بھی صاف نظر آرہا تھا کہ صوبائی مشیر کے فرزند بہ نفس نفیس پولنگ اسٹیشن میں کھڑے ہیں، پریزائڈنگ آفیسر ٹھپے لگارہے ہیں اور پولیس افسران انگوٹھے لگارہے ہیں۔ صاحب کے سادہ لباس میں ملبوس باڈی گارڈ دن بھر کرسی پر بیٹھ کر تھک جانے والے امیدواروں کے ایجنٹوں کا دورانِ خون بحال رکھنے کے لئے انہیں دوڑ لگوارہے ہیں اور دن بھر کے تھکے ہارے پولیس کے سپاہی کونے میں پڑی کرسیوں پر سستا رہے تھے۔ کیا اسے کوئی دھاندلی کہے گا؟ یقینا نہیں۔

جب بہار کالونی کی پولنگ اسٹیشن پر پہنچا تو دیکھا کہ سرکار کے حمایت یافتہ امیدوار کے حامی مخالف امیداور کے حامیوں کی ٹھکائی کررہے تھے کیوں کہ وہ لوگوں کو ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لئے اکسا رہے تھے۔ جبکہ سرکار کے حامیوں کا کہنا تھا کہ غریب لوگوں کو دھوپ میں کھڑے ہونے کی تکلیف کیوں دی جائے، ان کا فریضہ ہم ادا کریں گے۔ ٹھیک اسی وقت پولنگ اسٹیشن کے احاطے کے اندر کھڑے رٹرننگ افسر ایس ایچ او کو ہدایت دے رہے تھے کہ باہر جو کچھ ہورہا ہے ہونے دو مگر یہ پولنگ اسٹیشن کے حدود میں نہ ہونا چاہئے کیوں کہ پولنگ اسٹیشن کے امن و امان میں رخنہ پڑے گا۔ کیا اسے دھاندلی کہا جائے گا؟ بالکل نہیں۔

دھابیجی کے بلال نگر پولنگ اسٹیشن پر حب الوطنی کا دلچسپ منظر دیکھا۔ ایک پارٹی کے حمایت یافتہ نائب ناظم کے امیدوار دوڑے ہوئے نظر آئے، معلوم ہوا کہ وہ خود اپنا ووٹ دینے کی سازش کررہے تھے۔ ووٹر لسٹ میں نام ہے، شناختی کارڈ ہے، لہذا ووٹ ڈالنے دیا جائے۔ مگر سرکاری امیدوار کے حامیوں نے عین اسی وقت پر پہنچ کر اس کی یہ سازش ناکام بنادی۔ اتنے میں ایک ایم این اے صاحب کا قافلہ آرہا تھا۔ اس پر اچانک کسی نے پتھر پھینکا اور پتھر کا جواب گولی سے دیا گیا۔ گولیاں چلنے کی دیر تھی کہ ووٹر ووٹ دیے بغیر ہی اپنے اپنے گھر کو چل دیے۔ جب ان غریب لوگوں کی طرف سے ووٹ ڈالکر ایم این اے صاحب باہر آئے تو ایک بندہ آیا اور اس سے کہنے لگا کہ صاحب آپ کا آدمی پتھر مارنے کے پیسے کم دے رہا ہے۔ یوں صاحب نے موقع پر ہی اس کی دادرسی کی اور چل دیے۔

کیا اسے کوئی دھاندلی کہے گا؟ بالکل نہیں، یہ دھاندلی نہیں ہے۔ کیوں کہ انتخابات کے دوران جو کچھ ہوا اس کا احاطہ دھاندلی کا لفظ نہیں کرسکتا۔ لہذا اس کے لئے جب تک کوئی دوسرا لفظ ایجاد نہ ہو تب تک اسے شفافیت کہنا چاہئے، یہ ہماری رائے ہے، آگے زبان دان جانیں اور ان کا کام جانے۔


نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66گلوبلائزیشن کیا ہے
ضمیمہ: گلوبلائزیشن کی دستک
66آپ بیتی، خواتین کی
خصوصی ضمیمہ: آپ بیتی، خواتین کی
66احمدیہ کمیونیٹی
انڈونیشیا، احمدیہ کمیونیٹی پر حملہ
66سینیئر شہری
امریکہ میں بزرگوں کا حال اور تعلیم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد