امریکہ کے سینئیر شہری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوں تو امریکہ میں والدین، دادا، دادی اور بزرگوں کا وہ مقام نہیں جو ہمارے ممالک میں ہوتا ہے۔ جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں تو ان کو گھر میں بٹھا کر ان کی خدمت کوئی نہیں کرتا۔ یہاں آپ کو اسی اسی سال کے بوڑھے مرد اور عورتیں ہر کام کرتے نظر آتے ہیں۔ مجھے تو ان پر بڑآ ترس آتا ہے جب اسی سال کے بوڑھوں کو سفائی کرتے، باغ میں گھاس کاٹتے اور کیفٹیریا میں برتن دھوتے دیکھتا ہوں۔ بچے فادرز ڈے پر فادر کو، مدرز ڈے پر ماں کو اور ٹھینکس گِوِنگ پر دونوں سے ساتھ مل لیتے ہیں اور یوں سال بھر اپنے اولاد ہونے کا حق ادا کرتے ہیں۔ لیکن تعلیم کے حوالے سے ایک بہت اچھی بات نظر آئی۔ وہ یہ کہ یہاں کے کالج اور یونیورسٹیاں عمر رسیدہ افراش کی پڑھائی کے لیے خوب حوصلہ افضائی کرتی ہیں۔ میں نے مختلف لکاسوں میں کافی بزرگوں کو انڈر گریجوایٹ طلبا کے ساتھ دیکھا ہے۔ اس طرح ان کو بھی نئی چیزیں سیکھنے کا موقع مل جاتا ہے اور نوجوانوں کو بھی ان کے تجربات سے فائدہ اٹھانے، ان کی باتیں سننے کا موقع ملتا ہے۔ ایک امتحان کے دوران ایک خاتون اپنے دو چھوٹے چھوٹے بچوں کو واکر میں ڈالے آگئیں اور امتحان دیا۔ مجال ہے جو کسی نے برا منایا ہو۔ ان سینیئر سٹیزنز کے لیے عموماً فیس میں خصوصی رعایت ہوتی ہے اور اکثر ان کے لیے تعلیم مفت ہوتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ پاکستان اور انڈین یونیورسٹیوں میں بھی اسی طرح کے کورس شروع کیے جائیں۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||