عفاف اظہر ٹورانٹو |  |
 |  احمدیہ کمیونیٹی کی ایک مسجد |
میں یہ خط اس لئے لکھ رہی ہو ں تا کہ انڈونیشیا میں احمدیہ مسلم کمیونیٹی سے متعلق تازہ حالات کے بارے میں آپ کی توجہ دلاسکوں۔ نو جولائی کو کچھ قدامت پسند اور انتہا پسند مسلمانوں نے انڈونیشیا میں ہونے والے احمدیہ مسلم کمیونیٹی کے سالانہ کنونشن پر حملہ کردیا جس میں آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے۔ اس پر کینیڈا میں احمدی کمیونیٹی کو کافی صدمہ پہنچا ہے۔ ایک شدت پسند تنظیم نے کھلے عام دھمکی بھی دی تھی اور علاقے کو گورنر کو کہا تھا کہ سالانہ کنونشن منعقد نہ ہونے دیں۔ احمدیہ مسلم کمیونیٹی نے حالات کی سنجیدگی کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دی تھی کہ انہیں سکیورٹی فراہم کی جائے۔ حکومت اور پولیس سے اپیل کی گئی تھی کہ ایسے اقدامات کریں کہ تشدد کا کوئی واقعہ نہ ہو۔۔۔ لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی کی وجہ سے معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کو اس حملے میں صرف زخمی ہی نہیں ہونا پڑا بلکہ شدت پسند تنظیم اتنی حوصلہ مند ہوگئی کہ اس نے احمدیہ مسلم کمیونیٹی کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کردیا۔ جکارتہ کے نزدیک شہر بوگور میں مسجد پر بھی حملہ کیا گیا۔ پولیس دیکھتی رہی اور پچاس افراد زخمی ہوگئے اور املاک کو نقصان پہنچا۔۔۔ پولیس اور دیگر حکومتی اداروں کی نااہلی سے کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔ آج کے جدید تہذیب یافتہ دور میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آرہے ہیں، وہ بھی پولیس کی موجودگی میں۔ احمدیہ مسلم کمیونیٹی پرامن ہے، اور دنیا کے ہر ملک میں رنگ، قومیت، جنس، نسل یا عقیدے کی تفریق کے بغیر انسانیت کے لئے کام کررہی ہے۔ ہمارا موٹو ہے: محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں۔ بہت افسوس کی بات ہے کہ اس کمیونیٹی کے لوگ سونامی کے بعد امداد فراہم کرنے میں آگے آگے تھے اور اب انہیں ہی اس طرح کے واقعات کا سامنا ہے۔ میں آپ سے اپیل کرتی ہوں کہ اسے دنیا کے سامنے لائیں، یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اور ہمیں ان لوگوں کے لئے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے جو تشدد کا شکار ہورہے ہیں۔ اس سمت میں ہمارا ہر قدم مددگار ثابت ہوگا۔
نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |