’ایک اورٹاور اڑانے کامنصوبہ تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر بش نے کہا ہے کہ القاعدہ کا امریکہ کے مغربی ساحل پر ایک اور جہاز ٹکرانے کا منصوبہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ بندی کرنے والوں کا جوتے میں بم کے دھماکے ساتھ جہاز کے کاک پٹ پر قبضے کا ارادہ تھا۔ صدر بش نے منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حملہ آور جہاز کو لاس اینجلز میں واقع لائبریری ٹاور سے ٹکرانا چاہتے تھے۔ جس کا نام اب یوایس بینک ٹاور ہے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ نے یہ کام کرنے کی ذمہ داری اسلامی بنیاد پرست گروہ جامعہ اسلامیہ ( جے آئی) کو سونپی تھی۔ صدر بش نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد بھی اس منصوبے کے پس پردہ لوگوں میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ خالد شیخ محمد نے عرب وضح قطع کے حملہ آوروں کی بجائے جنوب مشرقی ایشیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھرتی کیے جن کے بارے میں خالد کا یقین تھا کہ ان سے کسی کو شبہ نہیں ہو گا۔ اس منصوبے پر کام اکتوبر دو ہزار ایک میں شروع ہوا لیکن دو ہزار دو کے آغاز میں القاعدہ کے ایک اہم کارکن کی گرفتاری عمل میں آنے سے اس پر کام رک گیا۔ جے آئی کے مشتبہ انڈونیشیائی سربراہ ہمبلی کی تھائی لینڈ میں گرفتاری سے بالاخر یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ بش انتظامیہ نے اس منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ القاعدہ کے دس دوسرے ناکام منصوبوں میں سے ایک ہے۔ | اسی بارے میں القاعدہ کا الزرقاوی سے تعلق؟01 March, 2005 | آس پاس القاعدہ کی ٹیپ کا تجزیہ05 August, 2005 | آس پاس اردن کے حملے، القاعدہ کا دعویٰ10 November, 2005 | آس پاس القاعدہ کارروائیوں میں اضافہ16 November, 2005 | آس پاس القاعدہ سےتعلق کاشبہ، 14 گرفتار19 December, 2005 | آس پاس کویت: القاعدہ سے تعلقات، سزائے موت27 December, 2005 | آس پاس القاعدہ کے ارکان کی ہلاکتوں کا امکان24 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||