BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اردن کے حملے، القاعدہ کا دعویٰ
ان دھماکوں میں تین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں
عمان کے ایک ہوٹل سے ایک زخمی شخص کو طبی امداد کے لیے لے جایا جا رہا ہے
عراق میں موجود القاعدہ کے حامیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں ہونے والے بم دھماکے انہوں نے کروائے ہیں۔

یہ دعویٰ انٹرنیٹ پر موجود ایک سائٹ میں کیا گیا۔

اردن کے نائب وزیرِ اعظم مروان المعشر نے اس سے قبل کہا تھا کہ عراق میں موجود شدت پسندوں پر سب سے زیادہ شک جاتا ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا: ’ہمیں عراق میں موجود کچھ دہشت گرد گروہوں پر شک ہے اور تحقیقات سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ ان حملوں کے ذمہ دار کون ہیں۔‘

عمان کے تین ہوٹلوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں ستاون افراد کی ہلاکتوں کے بعد اردن کی حکومت نے ملک کی سرحدوں کو بندکر دیا ہے اور ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

اردنی حکام کے مطابق بدھ کی شام ہونے والے ان خودکش دھماکوں میں لگ بھگ تین سو زخمی ہوئے تھے۔ پہلے آنے والی خبروں میں کہا گیا تھا کہ مرنے والوں کی تعداد ساٹھ سے زیادہ ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں سے پندرہ اردنی، پانچ عراقی، ایک انڈونیشیائی، تین چینی اور دوسرے ممالک کے عرب باشندے شامل ہیں۔

جن ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا وہاں عام طور پر مغربی سیاح اور سفارت کار ٹھہرتے ہیں لیکن ہلاک ہونے والوں میں بیشتر اردنی شہری بتائے گئےہیں۔

 ’دنیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان دھماکوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے
حملے سے متاثرہ اشرف محمد

تین ہوٹل، گرینڈ ہایٹ، ریڈیسن اور ڈیز اِن امریکی ملکیت میں ہیں۔ ریڈیسن میں جب دھماکہ ہوا اس وقت سینکڑوں افراد شادی کی ایک تقریب میں شریک تھے۔

انٹرنیٹ پر شائع کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ان ہوٹلوں میں سے چند
ایک چنا گیا ہے جنہیں اردن کے جابر حکمرانوں نے ایمان کے دشمنوں، یہودیوں اور صلیبیوں کا گڑھ بنا دیا ہے‘۔

بم دھماکے
یہ تینوں ہوٹل امریکی انظامیہ چلا رہی تھی

بی بی سی کی نامہ نگار کیرولین ہاؤلی نے جو کہ ہایٹ ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھیں کہا ہے کہ القاعدہ کے دعوے کی تصدیق کرنا ہمیشہ بہت مشکل ہوتا ہے۔

حملے کے بعد عمان کے ارد گرد سکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے ہیں اور ملک کی سرحدوں کو بند کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم عدنان بدرا نے تمام اسکولوں اور دفتروں کو جمعرات کے روز بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے اور ہوٹلوں اور سفارت خانوں پر سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔

اردن کے شاہ عبداللہ دھماکوں کی اطلاع ملتے ہی قازقستان کا اپنا دورہ چھوڑ کر واپس آگئے۔ شاہ عبداللہ نے کہا کہ دھماکوں کے لئے ایک ’گمراہ‘ گروہ ذمہ دار ہے۔

عمان میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی وجہ سے اسلامی شدت پسند گروہ اردن کی حکومت سے نفرت کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اردن کا اپنا دورہ معطل کردیا ہے۔ صدر جارج بش کے ترجمان نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ’دہشت گردی کا ایک گھناؤنا فعل‘ قرار دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں اردن امریکہ کا ایک اتحادی ملک ہے جس کی وجہ سے اسے اسلامی شدت پسند اپنے نشانے پر سمجھتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں عمان مغربی باشندوں کے لئے ایک اڈہ بن گیا ہے جس کے ذریعے وہ عراق آتے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
عمان: 56 ہلاک، سوگ کا اعلان
10 November, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد