BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 November, 2005, 08:28 GMT 13:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عمان: 56 ہلاک، سوگ کا اعلان
ان دھماکوں میں تین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں
ان دھماکوں میں تین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں
عمان کے تین ہوٹلوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں چھپن افراد کی ہلاکت کے بعد اردن کی حکومت نے ملک کی سرحدوں کو بندکردیا ہے اور ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔


اردنی حکام کے مطابق بدھ کی شام ہونے والے ان خودکش دھماکوں میں چھپن افراد ہلاک اور لگ بھگ تین سو زخمی ہوئے تھے۔ پہلے آنے والی خبروں میں کہا گیا تھا کہ مرنے والوں کی تعداد ساٹھ سے زیادہ ہے۔

جن ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا وہاں عام طور پر مغربی سیاح اور سفارت کار ٹھہرتے ہیں لیکن ہلاک ہونے والوں میں بیشتر اردنی شہری بتائے گئےہیں۔

 ’دنیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان دھماکوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے
حملے سے متاثرہ اشرف محمد
حملے کے بعد عمان کے ارد گرد سکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے ہیں اور ملک کی سرحدوں کو بند کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم عدنان بدرا نے تمام اسکولوں اور دفتروں کو جمعرات کے روز بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے اور ہوٹلوں اور سفارت خانوں پر سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔

تین ہوٹل، گرینڈ ہایٹ، ریڈیسن اور ڈیز اِن امریکی ملکیت میں ہیں۔ ریڈیسن میں جب دھماکہ ہوا اس وقت سینکڑوں افراد شادی کی ایک تقریب میں شریک تھے۔ دلہا اور دلہن کے والد اس دھماکے میں ہلاک ہوگئے۔ دلہا اشرف محمد نے بتایا: ’شادی کی شب میرے والد اور میرے سسر مجھ سے بچھڑ گئے۔‘

اشرف محمد نے مزید کہا: ’دنیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان دھماکوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

اردن کے شاہ عبداللہ دھماکوں کی اطلاع ملتے ہی قازقستان کا اپنا دورہ چھوڑ کر واپس آگئے۔ شاہ عبداللہ نے کہا کہ دھماکوں کے لئے ایک ’گمراہ‘ گروہ ذمہ دار ہے۔ اردن کے نائب وزیراعظم ماروان معاشر نے عراق میں سرگرم اردنی نژاد القاعدہ رہنما ابو مصعب الزرقاوی کو ان حملوں کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا: ’ہمیں عراق میں موجود کچھ دہشت گرد گروہوں پر شک ہے اور تحقیقات سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ ان حملوں کے ذمہ دار کون ہیں۔‘

عمان میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی وجہ سے اسلامی شدت پسند گروہ اردن کی حکومت سے نفرت کرتے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن ہاؤلی ہایٹ ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھیں جہاں ان کے مطابق ہوٹل کی لابی میں واقع ایک بار میں دھماکہ ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ ہوٹل کی کھڑکیوں کے شیشے چکناچور ہوگئے اور کئی افراد سنگین حالت میں زخمی تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اردن کا اپنا دورہ معطل کردیا ہے۔ صدر جارج بش کے ترجمان نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ’دہشت گردی کا ایک گھنونا فعل‘ قرار دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں اردن امریکہ کا ایک اتحادی ملک ہے جس کی وجہ سے اسے اسلامی شدت پسند اپنے نشانے پر سمجھتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں عمان مغربی باشندوں کے لئے ایک اڈہ بن گیا ہے جس کے ذریعے وہ عراق آتے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد