القاعدہ کا الزرقاوی سے تعلق؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی انٹیلجنس میس پھیلنے والی رپورٹوں کے مطابق القاعدہ کی اعلیٰ قیادت نے عراقی مذاحمتکار ابو مصعب الزرقاوی کو کہا ہے کہ وہ امریکہ کے اندر نشانوں پر حملوں کا انتظام کریں۔ امریکی خفیہ اداوروں کا دعوی ہے کہ القاعدہ عراقی مذاحمتکار سے رابطے میں ہے اور اس سلسے میں انہوں نے اسمامہ بن لادن کے ایک اہم نائب کا الزرقاوی سے رابھطے کا سراغ لگا لیا ہے۔ تاہم القاعدہ کے اس رکن کا نام نہیں بتایا گیا ہے۔ امریکی انٹیلجنس کا خیال ہے کہ الزرقاوی پچھلے سال القاعدہ کے ساتھ مل گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے اس اقدام سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ خود ایک کمزور تنظیم بن چکی ہے اور اسی لیے وہ الزرقاوی کے گروہ سے امریکہ کے اندر حملے کرانا چاہتی ہے۔ تاہم انٹیلجنس حکام کو یہ معلومات نہیں ہے کہ امریکہ میں کن مقامات کو حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ امریکی حکومت اتنی حساس قسم کی معلومات منظر عام پر کیوں لائی ہے۔ تاہم بش انتظامیہ کی شروع سے کوشش رہی ہے کہ وہ عراق کو دہشت گردی کا مرکز تصور کرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||