BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 February, 2006, 17:15 GMT 22:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ: نسلی مباحثوں میں شدت

گیارہ ستمبر اور سات جولائی کے واقعات نے میٹروپولیٹن تصور کو بہت نقصان پہنچایا۔
گیارہ ستمبر اور سات جولائی کے واقعات کے بعد نسلی، مذہبی اور سیاسی مباحثوں نے خاصی شدت پکڑ لی ہے۔

ا س سلسلہ میں لندن یونیورسٹی کے گولڈ سمتھ کالج نے’نسل اور مذہب سات جولائی کے بعد‘ کے موضوع پر فروری کے تیسر ے ہفتے میں ایک کانفرنس کا اہتما م کیا۔

کانفرنس کے انعقاد کا مقصد نسل پرستی کے خلا ف تحریک کا اس نئی صورتحال کا ازسرِنو جائزہ لینا اور ایک مربوط ردِ عمل متعین کرنا تھا۔اس کانفرنس میں اساتذہ، محقیقین، طالبعلموں، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے شر کت کی۔

کانفرنس کی صدارت بربک کالج کی پروفیسر اوتار برا نے کی۔ لیڈز یونیورسٹی کے بابی سعید نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ گیارہ ستمبر اور سات جولائی کے واقعات نے میٹروپولیٹن اور کالونی کے تصور کو خاصی زد پہنچائی ہے۔

اس سے پہلے سامراجی طاقتیں جو کچھ ا پنی کالونیز میں کرتی تھیں و ہ ڈھکا چھپا رہتا تھا اور جو کالونیز کے تارکین وطن کے سا تھ سلوک یہاں کیا جاتا تھا اس کو ریس ریلشنز کے زمرے میں ڈال کر محدود کر دیا جاتا تھا۔

اس لحاظ سے یہ دونوں الگ الگ عوامل تھے۔موجودہ صورتحال میں یہ دونو ں عوامل گیارہ اور سات جولائی کے شکل میں ا کٹھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان واقعا ت کے بعد مغربی تہذیب کی غلبے کے تصور کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

مانیٹرنگ گروپ کے شریش گروور نے کہا کہ برطانیہ میں ایشائی لوگوں میں ترقی پسند قوتوں کی کمزوری کی وجہ سے مذہبی بنیادوں پر شناخت کا رجحا ن بڑہ گیا ہے۔

سا ت جولائی کے واقعا ت کی وجہ سے شہری اور انسانی حقو ق پر قدغن لگی ہے۔لیڈز میں مسلم کمیونٹی پر پولیس ا ور دوسر ے ریاستی اداروں نے کڑ ی نظر رکھی ہوئی ہے۔مسلما نوں کی معاشر ے سے ناامیدی کے اسباب معاشی اور سماجی ہیں-

گولڈ سمتھ کالج کے شعبہ سوشیالوجی کے سربراہ چیتن بھٹ نے کہا کہ یہ نسل پرستی کے خلاف تحریک کے لیۓ لمحہ فکریہ ہے کیونکہ جہاں سٹاپ دی وار نے اسلامی سیاست کا پرچار کرنی والی جماعتوں کو برطانوی سیاست میں پلیٹ فارم مہیا کیا ہے وہاں حکومت نے بہی بعض اسلامی سیاست کی دعویدار تنظیموں کو پالیسی کی تشکیل میں ا ہم مقام دیا ہے۔

اس صورتحال میں ترقی پسند اور متعدل مسلمانوں کے لیےجگہ تنگ ہوگئی ہے۔نسل پرستی کے خلاف جدوجہد میں متحرک ایشین لفٹ کے لیے مشکل وقت ہے کیونکہ ملٹی کلچرزم کے دروازہ سے مذہبی تنظیموں نےاپنی جگہ بنالی ہے۔

ایسٹ لندن یونیورسٹی کی نیرا ڈیوس نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور نسلی تعصب کے بڑ ہتے ہو ئے رجحانات پر تشو یش کا اظہار کیا–

مقریرین کے بعد سوال و جواب میں سامعین نے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر ایک ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ اس سلسلہ کی اگلی کانفرنس عراقی کی موجودہ صورتحال میں عورتو ں کے مسائل پر اپریل میں ہو گی۔یہ کانفرنس زینوس ریسر چ گروپ کے زیر اثر منعقد کی کئی تھی-

اسی بارے میں
نسلی منافرت اور تاریخی پل
22 September, 2003 | منظر نامہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد