| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نسلی منافرت اور تاریخی پل
’ستاری موست ایک حسین خیال تھا جو دریائے نریتوا کے زمرد جیسے سبز پانی پر قوسِ قزح کی طرح معلق رہا۔ موتیوں کی ایک لڑی تھی جو دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ایک محراب کی صورت میں جامد ہو گئی تھی‘ یہ تھے صحافی مانیکا بورکووچ کے الفاظ۔ تُرک معمار اونر اوزش نے کہا: ’یہ پل میرے آباؤ اجداد کی صلاحیتوں اور کاوشوں کا ثبوت اور ان کی عظمت کی نشانی ہے‘۔ نوجوان ریڈیو پروڈیوسر مِیرسِد بہرام کا کہنا تھا: ’پرانا پل میری اور موستار شہر کے لاکھوں شہریوں کی بنیادی ضروریات زندگی میں شامل تھا بالکل ایسے ہی جیسے کھانا پینا اور سانس لینا‘۔ مفتی سعید سمائیکچ کہتے ہیں: ’ستاری موست، موستار کی علامت تھا، یورپ میں اسلامی دور کا علمبردار تھا اور اسے تباہ کرنے کا مقصد اس خطے میں اسلام کی روح کو مجروح کرنا تھا‘۔
ستاری موست ترک شہنشاہ سلیمان قانونی کی ہدایت پر چار صدی قبل تعمیر کیا گیا تھا جس سے تجارتی آمد و رفت کے راستے کھل گئے تھے۔ نریتوا کے دونوں کناروں پر صنعت و حرفت کو فروغ ملا، موستار جو اس پل کا نگہبان اور رکھوالا تھا، ہرزِگووینا کا سب سے بڑا شہر بنا۔ پل کے قریب چھوٹے چھوٹے پتھروں والی سڑکوں اور گلیوں میں قہوہ خانے آباد ہوئے، شہر کی خوبصورتی کے چرچے ہوئے اور ثقافتی مرکز کے طور پر اسے شہرت ملی۔ لوگ دور دراز سے شہر کے تاریخی ورثے اور قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے اور پرانے پل پر اپنی تصویریں بنوانے کے لیے آنے لگے۔
ستاری موست کا لفظی معنی پرانا پل ہے۔ جہاں تک میرے علم میں ہے مانیکا بورکووچ کا شعر و شاعری سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ ایک دبنگ کروشیائی خاتون ہیں اور اپنے ملک کے صحافیوں کی یونین کے صدر کی حیثیت سے پُرجوش تقریروں کے لیے جانی جاتی ہیں۔ لیکن تباہ شدہ پل کے قریب بنے لکڑی کے عارضی پل پر کھڑے جب وہ ستاری موست کا ذکر کر رہی تھیں تو ان کے الفاظ اور لب و لہجہ میں اردو غزل کی سی روانی اور لطافت تھی۔ تیس برس پہلے انہوں نے پہلی بار ستاری موست کو دیکھا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور نو نومبر انیس سو ترانوے کو اس کی تباہی کی تصاویر انہوں نے زاغرب میں اپنے گھر ٹیلی وژن پر شام کی خبروں میں دیکھیں۔ ان کا کہنا تھا: ’پہلی جھلک میں یوں لگا کہ پل کی دیوار سے کچھ غبار سا اٹھا ہے اور پھر مجھے اندازہ ہوا کہ پل کو کوئی نشانہ بنا رہا ہے تو میں چیخ اٹھی یااللہ پل پر حملہ ہو گیا ہے۔ پھر یہ خوبصورت محراب ٹوٹ کر دریا میں گرتی نظر آئی اور میں زار و قطار روتے جا رہی تھی اور میرے منہ سے بےاختیار یہی نکل رہا تھا کہ پل کو مار دیا۔۔۔کسی نے پل کو مار دیا، بڑا ظلم ہوا‘۔ یہ ظلم مانیکا کی اپنی ہی برادری کے لوگوں یعنی بوسنیا کے کروشیائی فوجیوں نے کیا تھا۔ ’وہ انہونی‘ بات جو بقول میرسِد بہرام کے ’ہمارے بھیانک ترین خواب میں بھی نہیں ہو سکتی تھی، وہ حقیقت بن گئی‘ اور وہ پل جو صدیوں سے قافلوں اور شہریوں کی آمدورفت کا بوجھ اٹھائے، طوفانوں اور زلزلوں کا مقابلہ کرتا رہا، دونوں عالمی جنگوں کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہا، وہ نسلی کشیدگی اور نفرت کی آگ کی نذر ہوا اور ستاری موست نومبر کے اس تاریخی دن صبح دس بج کر بیس منٹ پر دریا کے مغربی کنارے کی جانب قابض کروشیائی فوجوں کے کمانڈر جنرل پیلی آیک کے حکم پر ٹینکوں کی تابڑ توڑ گولا باری سے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر دریائے نریتوا میں موستار کے آنسو بن کر بہہ گیا۔
اپنے گزشتہ دورے میں تباہ شدہ پل کے دونوں جانب اس کے برجوں کے کھنڈرات کےدرمیان رسیوں کا پل لٹکتا دیکھ کر میرے دل کو دھچکا سا لگا تھا۔ اس بار شہر پہنچتے ہی نہایت بےصبری کے ساتھ میں پل کی جانب روانہ ہوئی کیونکہ اس کی تعمیر کا کام شروع ہوئے سال بھر ہو چکا تھا اور یہ سوچ کر کہ میں اس تاریخی منصوبے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ پاؤں گی میری کیفیت اس بچے کی سی تھی جو پہلی بار ڈزنی لینڈ جا رہا ہو۔ وہ جگہ جہاں میں نے رسیوں کا پل دیکھا تھا وہاں اب بہت بڑی لکڑی کی باڑ پر انجینیئر اور مزدور کام میں مصروف نظر آئے۔ اس کے قریب ہی لکڑی کے عارضی پل پر کھڑے کچھ لوگ تعمیر کا کام دیکھ رہے تھے اور کچھ اس لڑکے کی تصویریں بنانے میں مصروف تھے جو دریا میں چھلانگ لگانے کی تیاری کر رہا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ انیس سو چورانوے میں میرے مترجم ایدن نے نہایت افسردگی سے بتایا تھا کہ موسمِ گرما میں شہر کے منچلے ستاری موست سے دریا میں چھلانگیں لگا کر اپنی دھاک بٹھایا کرتے تھے اور اب پل کے ساتھ وابستہ شہر کی یہ روایت بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ باڑ پر کام کرنے والی ایک دھان پان سی لڑکی کو اپنی جانب متوجہ کرانے کے بعد میں نے پل کے چیف انجینیئر کا پتہ پوچھا تو اس نے بتایا کہ سائٹ مینجر مغربی کنارے پر قائم دفتر یا اس کے سامنے والے کیفے میں ہو گا۔ لڑکی نے اپنا نام سویتلانہ بتایا اور کہا کہ وہ کروشیائی نگران کمیٹی کی سول انجینیئر ہے۔ سائٹ انجینیئر اور اوزش ترکی کی تعمیری کمپنی اربو کے لیے کام کرتے ہیں جسے پل کی تعمیر کا ٹھیکہ ملا ہے۔ پہلی بار اس پل کی تعمیر کا شرف ترکی کے مشہور معمار سینان کے ایک شاگرد خیرالدین کو حاصل ہوا تھا جنہیں مقامی پتھروں پر پیدل پل بنانے میں پندرہ سو ستاون سے لے کر پندرہ سو چھیاسٹھ تک نو سال کا عرصہ لگا تھا اور اب اونر بجا طور پر اس نایاب موقعہ پر فخر کرتے ہیں جو ان کی کمپنی کو ملا ہے۔
ترکی کی حکومت نے خواہش ظاہر کی تھی کہ اس پل کی دوبارہ تعمیر اور اس کے اخراجات کی ذمہ داری اسے دے دی جائے اس طرح کروشیا نے بھی اس پل کی تعمیر کی پیشکش کی تھی لیکن یہ محض ایک پل ہی کی تعمیر کا معاملہ نہیں ہے اور اسے ان دو نسلی گروہوں کو قریب لانے کی مہم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو صدیوں ایک ساتھ رہنے کے بعد ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔ عالمی بینک کی زیر نگرانی اس تاریخی پروجیکٹ کا یہ کام کسی ایک قوم یا برادری کو نہیں سونپا گیا۔ سویتلانہ اور اونر نے نہایت شوق سے نہ صرف مجھے پل کی تعمیر کے ہر پہلو سے متعارف کرایا بلکہ دو روز کے اندر نریتوا کے پانی کے سینکڑوں فٹ اوپر کھڑی باڑ کے چھوٹے چھوٹے تختوں اورجستی نالیوں پر چلنے اور پھلانگنے کی مشق بھی کرا دی۔ اونر نے نہایت پیچیدہ تعمیری اصول اور تفصیلات سمجھاتے ہوئے بتایا کہ یہ پل اصلی ستاری موست کی ہو بہو نقل ہوگا اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی فائلوں میں محفوظ اس کے نقشوں اور تصاویر کی مدد سے ہر مرحلے پر ایک ایک انچ ناپ کر پرانے نقشے سے مطابقت پیدا کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس دن تین ملی میٹر کا فرق نکل آئےاس رات ان کی نیند اڑ جاتی ہے۔ سویتلانہ نے، جن کا تعلق بوسنیا کی کروشیائی برادری سے ہے، بتایا کہ پل کی تعمیر کے لیے پتھروں کی سلیں موستار سے چند میل کے فاصلے پر واقع انہی پہاڑوں سے لی گئی ہیں جہاں سے صدیوں پہلے خیرالدین نے لی تھیں اور کیمیائی تجزیے سے یہ بات ثابت کی گئی ہے۔
اس برس کے آخر تک پل مکمل ہو جائے گا۔ اس کی تاریخی اور سیاسی اہمیت کے پیشِ نظر اس منصوبے کو امن کی علامت اور مجروح جذبات کی صحتیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن بوسنیائی لوگ جو سرب اور کروشیائی جارحیت کا نشانہ بنے، کیا وہ بھی اپنے زخم بھول پائیں گے۔ مفتی ہرزِگووینا سعید سمائیکچ کا کہنا ہے: ’اس کے لیے بہت وقت درکار ہے۔ جن لوگوں نے خطۂ بلقان سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے کی ٹھان لی تھی انہیں اب یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ صلح و آشتی سے ساتھ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن میرسِد جو مفتی سعید کی طرح اس پرانے پل سے چند فرلانگ کے فاصلے پر پلے بڑھے ہیں، پل کی دوبارہ تعمیر کے سرے سے ہی خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے بس میں ہو تو میں اس کے ٹوٹے ہوئے برج یونہی رہنے دوں تاکہ آنے والی نسلیں تاریخ کا یہ سبق کبھی نہ بھول پائیں کہ ماضی میں کیا کیا ظلم ہوئے اور کس نے کئے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||