نسلی جرائم، مزید کوشش کی ضرورت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی سکھ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی سکھ آبادی کو نسلی جرائم کا نشانہ بننے سے بچانے کے لیے برطانوی حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سکھ فیڈریشن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ’ حکومت نے سکھوں اور ان کے مذہبی مقامات کے خلاف نسلی بنیاد پر ہونے والے جرائم سے نمٹنے کے لیے ضروری قدم نہیں اٹھایا‘۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یورپ کے دوسرے ملکوں میں رہائش پذیر اور ان ملکوں کا سفر کرنے والے سکھوں کو بھی نسلی امتیاز کا سامنا ہے۔ بیان کے مطابق’ برطانوی حکومت نے فرانس ، بلجیئم اور یورپی یونین میں مذہبی امور سر انجام دینے کے معاملے میں سکھوں پر لگائی جانی والی پابندیوں کے خلاف آواز بلند نہیں کی‘۔ سکھ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ’ 11/9 کے بعد سے زندگی کے مختلف شعبوں میں سکھوں کو غیر منصفانہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ ان حملوں کے بعد سے شناخت کی غلطی کا نشانہ بنتے رہے ہیں‘۔ سکھ کنونشن کے دوران بھارت میں سکھوں سے روا رکھے جانے والے سلوک اور بھارتی وزیرِاعظم کی جانب سے1984 کے فسادات پر سکھوں سے کی جانے والی معذرت کا معاملہ بھی زیرِ بحث آئے گا۔ اس بات کا اعلان گیارہ ستمبر کے حملوں کی چوتھی برسی پر وولورہمپٹن میں قومی سکھ کنونشن کے موقع پر کیا گیا۔ اس کنونشن کے ایجنڈے میں سیاسی نمائندگی اور نسلی امتیاز جیسے معاملات شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||