سات جولائی کے بعد نسلی منافرت میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے ایک علاقے شروپشائر کے ایک رہائشی بلال خان نے پرائمری سکول سے اپنے ایک بیٹے اور بیٹی کو صرف اس لیے اٹھا لیا کہ اس کے مطابق ’وہاں اس کے بچوں کے ساتھ نسلی منافرت کا رویہ رکھا جاتا تھا اور اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا‘۔ بعد میں آزاد ادارے کی طرف سے کی گئی چھان بین کے بعد ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ وومبرج پرائمری سکول، ٹیلفورڈ میں بلال خان کی بچی کے ساتھ نسلی تعصب کے واقعات پیش آئے اور وہاں بہتر صورت حال پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بلال خان نے الزام لگایا تھا کہ ان کے بچوں، خصوصی طور پر ان کی بچی کو طرح طرح کے ناموں سے پکارا جاتا تھا اور ایک مرتبہ اس کے سر پر پینسل کے پچھلے حصے سے ضرب بھی لگائی گئی۔ یہ تو ایک اکیلا واقعہ تھا لیکن سات جولائی کے دھماکوں کے بعد برطانیہ میں نسلی منافرت میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ان نسلی جرائم کا زیادہ تر شکار مسلمان اور شکل و صورت سے مسلمان لگنے والے باشندے ہیں۔ نسلی منافرت کا شکار ہونے والے افراد کے علاوہ مساجد بھی اس کی زد میں ہیں، اس کے ساتھ ساتھ سکھوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی خبریں بھی ملی ہیں۔ برطانیہ کے روزنامہ انڈیپینڈینٹ میں شائع کیے گئے پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2005 میں جولائی 2004 کی نسبت نسلی جرائم میں سینکڑوں گنا اضافہ ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق شیفیلڈ اور ڈونکاسٹر کے علاقوں میں جولائی 2005 میں ایک سو سینتیس نسلی حملوں کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ جولائی 2004 میں صرف اڑتالیس ایسے واقعات کی شکایات درج کرائی گئیں تھیں۔ اسی طرح برمنگھم میں نسلی جرائم میں چھیالیس فیصد اضافہ ہوا جبکہ مرسی سائڈ میں چھہتر فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ مجموعی طور پر پورے ملک میں ان واقعات میں چوبیس فیصد اضافہ ہوا۔ بڑھتے ہوئے نسلی تشدد کی وجہ سے سیاہ فام اور ایشیائی باشندوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ صورت حال کی نزاکت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دس جولائی کو ریاض نامی ایک پاکستانی باشندے کو نسل پرست سفید فاموں نے اس قدر مارا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئی دم توڑ گیا۔ اسی مہینے میں ایک اور سیاہ فام اینتھنی واکر کو نسل پرست سفید فاموں نے ہتھوڑے کی مدد سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ لندن کی ایک تنظیم مانیٹرنگ گروپ کے ڈائریکٹر سرییش گروور نے روزنامہ انڈیپینڈینٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تنظیم نے سات جولائی سے متعلقہ دو سو کیس نمٹائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نسلی منافرت صرف زبانی کلامی نہیں ہے بلکہ یہ جانی نقصان کا باعث بن بھی سکتی ہے۔ لگتا ہے کہ جب پولیس باقاعدہ طور پر دو ہزار بانچ کے اعداد و شمار شائع کرے گی تو نسلی جرائم میں اضافہ بہت سے لوگوں کے گمان سے بھی باہر ہو گا۔ |
اسی بارے میں ’لندن دھماکے القاعدہ نے کروائے‘19 September, 2005 | آس پاس لندن دھماکے: سات مزید گرفتار31 July, 2005 | آس پاس لندن دھماکے: کب کہاں کیا ہوا؟21 July, 2005 | آس پاس ’مغرب دھماکوں کا ذمہ دار ہے‘20 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||