BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 September, 2006, 12:39 GMT 17:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حریت پسندی سے دہشت گردی تک

مالیگاؤں
یک جہتی کی علامت دارلعلوم دیوبند کو بھی دہشت گردی سے جوڑا جانے لگا ہے۔
مسلمانوں کو نظرانداز کرنے کی کوشش کوئی نئی نہیں ہے ایک عرصے سے یہ کوشش جاری ہے۔ لیکن میں نہيں سمجھتا کہ ان کوششوں سے تاریخ میں جو واقعات رو نما ہوئے ہیں ان کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

ہماری موجودہ تاریخ کو بنانےمیں بہت سے افراد اور قوموں کی شرکت رہی ہے ان میں سے مسلمانوں کا رول بہت اہم ہے۔

جب بات مسلمانوں کے تعاون کی آتی ہے تو میرا ذہن ادب کی طرف جاتا ہے۔ ادب کی دنیا میں مسلمانوں کا بہت اہم مقام رہا ہے اردو نے بڑے بڑے شاعر اور ادیب پیدا کئے ہیں جنہوں نے نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں ہندوستان کا نام روشن کیا ہے۔

جنگ آزادی کا ذکر کریں تو وہاں بھی مسلمانوں کا بہت اہم رول رہا ہے۔ساتھ ہی کئی بڑی شخصیات نے ہندوستان کی آزاد شبیہ کو تشکیل کرنے میں اپنی پوری طاقت بھی لگائی تھی۔

میں دلی کا رہنے والا ہوں اور اگر میں دلی کی بعض شخصیات کا ذکر کروں تو ان میں ڈاکٹر مختار احمد انصاری یہاں رہتے تھے۔ آصف علی بھی یہیں رہتے تھے اور یہ سب لوگ آزادی کی لڑائی میں کسی سے پیچھے نہیں تھے۔

مولانا آزاد کی قربت کانگریس کے ساتھ تھی اور وہ کانگریس کے صدر بھی رہے۔ جواہر لعل نہرو اور مہاتما گاندھی کے ساتھ ان کے قریبی رشتے تھے اور خان عبدالغفار کا نام کون بھول سکتا ہے۔

اترپردیش میں رفیع احمد قدوائی جیسے لوگ تھے جنہوں نے آخر وقت تک کانگریس کا ساتھ نہیں چھوڑا بلکہ وہ بہت بڑے عہدوں پر فائز بھی رہے۔ علی گڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جہاں میں پڑھاتا ہوں، وہ خود جنگ آزادی کی تحریک کی پیداوار تھی۔

علماء کی ایک بڑی جماعت جمیعت علمائے ہند کا قیام 1919 میں ہوااور وہ آخر وقت تک جنگ آزادی کی تحریک میں شامل رہی ۔تنظيم کے اہم علماء کا تعلق انڈین نیشنل کانگریس سے رہا اور انہوں نے پاکستان تحریک کی زبردست مخالفت کی۔

تاریخ میں ایسے بہت سے علماء ہوئے ہیں جنہوں نےگاندھی جی کے1931 میں ستیاگرہ اور ڈانڈی مارچ میں ہزاروں مسلمانوں کے ساتھ شرکت کی تھی۔ان میں مولانا کفایت اللہ، مولانا احمد سعید کا نام سب نمایاں ہے۔

اگر میں دارلعلوم دیوبند کی بات کروں تو دیوبند قومی یکجہتی مرکز رہا ہے۔اس نے آزادی کے مجاہد پیدا کئے ہیں۔ یہ تو بدقسمتی ہے کہ آج کسی غلط فہمی کے سبب اسی دارلعلوم کو دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے۔

میرا یہ بھی خیال ہے کہ جن کی سوچ فرقہ پرست ہے ان کو تاریخ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

لیکن حالات یہ ہیں کہ مسلمانوں کو نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں یہ کوئی نہیں بات نہیں ہے۔1947 ایک ایسا اہم واقعہ ہے جس نے مسلمان اور ہندؤوں کے درمیان خلیج پیدا کی ہے۔

پاکستان کا قیام خود مسلمانوں کے لیۓ نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ شمالی ہند میں بہار اور یو پی کے کئی علاقوں سےدانش ور افراد ہندوستان سے پاکستان چلے گۓ۔ اس طرح ان جگہوں کا جو ’مڈل کلاس‘ خطرے میں پڑ گیا۔

اور ہندوستان میں مسلمان طبقہ کمزور پڑنا شروع ہو گیا۔ میرا یہ بھی خیال ہے کہ مسلمانوں کے جو موجودہ حالات ہیں ان کے لیۓ حکومت اور سسٹم سے زیادہ وہ خود ذمہ دار ہیں ۔

 ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ ہم میں سے آج بھی زیادہ تر لوگ مختلف وجوہات سے امریکہ جانا چاہتے ہیں اور جو لوگ امریکہ پر حملہ کر کے کسی قسم کا بدلا لینا چاہتے ہیں وہ یہ بھول رہے ہیں کہ جب امریکہ یا کسی ديگر ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دنیا میں رہنے والے سبھی مسلمان متاثر ہوتے ہیں۔

تعلیم میں مسلمان بہت پیچھے ہیں۔ اس میں مسلمان خود جہاں تک لڑکیوں کی تعلیم کی بات ہے وہ لڑکیوں کو صرف اس بنیاد پر سکول نہیں جانے دیتے کہ لڑکیوں کا تعلیم دینا غیر اسلامی ہے۔ پردے کے نام پر وہ اپنی عورتوں کو دبانا چاہتے ہیں۔

یہ تو بات تھی ہندوستان کی لیکن عاملی سطح پر نائن الیون نے مسلمانوں کے حالات کو ایک بڑا دھچکہ پہنچایا۔

اس واقعہ نےعام لوگوں کا مسلمانوں کے طرف نظریہ بدل دیا ہے۔ اس واقعہ سے قبل امریکہ میں مسلمانوں کو شک کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔اس ایک حملے نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو نظر انداز کر دیا ہے اور بعض مسلمانوں نے اس کے رد عمل میں دہشت گردی کا راستہ اختیار کر لیا۔جو قطعی صحیح نہیں ہے۔

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ ہم میں سے آج بھی زیادہ تر لوگ مختلف وجوہات سے امریکہ جانا چاہتے ہیں اور جو لوگ امریکہ پر حملہ کر کے کسی قسم کا بدلا لینا چاہتے ہیں وہ یہ بھول رہے ہیں کہ جب امریکہ یا کسی ديگر ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دنیا میں رہنے والے سبھی مسلمان متاثر ہوتے ہیں۔

دہشت گردی کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے اگر تخریبی عناصر مسلمانوں میں ہیں تو وہ امریکہ میں بھی موجود ہیں۔

اور ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے تو تاریخ یہ واضح کرتی ہے کہ وقتا فوقتا کسی نہ کسی برادری کو ان حالات سے گزرنا پڑ ا ہے لیکن دہشتگردی کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے خواہ وہ امریکہ ہو یا پھر مسلمان۔

اسی بارے میں
بابری مسجد کا انہدام
06 December, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد