BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 April, 2006, 07:29 GMT 12:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار اس کی روح ہے‘

علی گڑھ یونیورسٹی
علی گڑھ یونیورسٹی میں تیس ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہندوستان کے مسلمانوں کی تعلیمی، ثقافتی اور تہذیبی زندگی کا ایک اہم جزو رہی ہے۔

گزشتہ تعلیمی سال سے جب یونیورسٹی نے پیشہ وارانہ کورسز میں مسلمانوں کے لیئے پچاس فی صد نشستیں مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا تو الہ آباد ہائی کورٹ نے نہ صرف اس فیصلے کو رد کر دیا بلکہ یہ فیصلہ بھی سنایا کہ مسلم یونیورسٹی ایک اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔

اس فیصلے کے بعد یونیورسٹی ایک غیر یقینی اور اضطراب کی کیفیت سے گزر رہی ہے۔

بیشتر طلبہ میں بے چینی اور مایوسی کی ملی جلی کیفیت ہے۔ اساتذہ بھی مضطرب ہیں۔ سٹوڈنٹس یونین کے نائب صدر ملک فضل رب کیمپس میں پھیلی ہوئی مایوسی کے بارے میں کہتے ہیں کہ’ کسی کی روح چھین لی جاتی ہے تو بے چینی ہی نہیں مردگی بھی آ جاتی ہے۔ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار یہاں کی روح ہے۔ اسے چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے یہ لوگ بے چین اور مضطرب تو ہوں گے ہی‘۔

مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار بیشتر طلبہ اور اور اساتذہ کے لیئے ایک جذباتی معاملہ ہے۔ یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر عبدالحفیظ گاندھی کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد یونیورسٹی میں کافی مایوسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اقلیتی درجے کے تحت یہ خود مختاری ہوتی ہے کہ ہماری تعلیم کیسی ہو، ہماری داخلہ پالیسی کیسی ہو۔ ہم کس کا انتخاب کریں گے، اس کا فیصلہ ہم کرتے ہیں‘۔

’یونیورسٹی کا سالانہ مجموعی بجٹ ڈھائی سو کروڑ روپے ہے‘

سرسیّد احمد خان کے قائم کردہ کالج سے یونیورسٹی بننے تک مسلم یونیورسٹی نے ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔ رابطہ عامہ کے افسر ڈاکٹر راحت ابرار کے مطابق ’اس وقت یونیورسٹی میں تیس ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اکانوے ‎شعبوں میں دو سو نواسی کورسز میں تعلیم دی جا تی ہے اور یونیورسٹی کا سالانہ مجموعی بجٹ ڈھائی سو کروڑ روپے ہے‘۔

اس سوال پر کہ جب یونیورسٹی میں مسلمانوں کا تناسب پہلے ہی تقریباً‎ ستّر فیصد ہے تو پھر مسلمانوں کو پچاس فیصد کوٹے کی کیا ضرورت تھی، ڈاکٹر ابرار بتاتے ہیں کہ’ریزرویشن کا بنیادی مقصد مسلمانوں کی تعداد بڑھانا نہیں تھا بلکہ ایک دو ریاستوں کی بجائے پورے ملک سے ذہین طلبہ کو یہاں لانا ہے‘۔

انگریزی کے پروفیسر ڈاکٹر مطیع الرحمان کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی کورس نہیں تھا جس میں مسلمانوں کی تعداد پچاس فی صد سے کم رہی ہو اور رہی بات اقلیتی کردار کی تو یہ اقلیتی ادارہ کبھی نہیں تھا۔ ان کے مطابق’انیس سو اکیاسی کے جس پارلیما نی ایکٹ کا حوالہ دیا جاتا ہے اس میں کہیں نہیں کہا گیا ہے کہ یہ اقلیتی ادارہ ہے‘۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ یونیورسٹی کا جو ڈھانچہ ہے، یہاں اساتذہ کی تقرری اور طلبہ کے داخلے کا جو نظام ہے اس سے یہ یونیورسٹی مسلمانوں کی ایک تعلیمی، ثقافتی اور تہذیبی ورثہ بنی رہے گی ۔

یونیورسٹی میں مسلمانوں کا تناسب پہلے ہی تقریباً‎ ستّر فیصد ہے

‏علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ہندوستان کو ہر شعبے میں بہترین پروفیشنل دیئے ہیں۔ سول سروسز ہوں یا ادب، فلم ہو یا کھیل کا میدان یا سیاست ، ہر جگہ اس یونیورسٹی نے اپنی شناخت بنائی ہے۔

یونیورسٹی نے گزشتہ دنوں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔ لیکن حکومت یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے اس معاملے میں بظاہر پیچھے ہٹ گئی ہے۔ مسلم یونیورسٹی کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں ہے اور طلبہ چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی کے لیئے مرکزی حکومت اس معاملے میں فوری طور پر مداخلت کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد