پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ایسے وقت جب ہندوستان میں برقع، شادی، طلاق اور نکاح جیسے مسائل پر بحث چھڑی ہوئی ہے جنوبی شہر حیدرآباد کی مسلم خواتین زندگی کے ہر شعبے میں اپنی شناخت بنانے کی کوشش کر رہی ہیں اور انہیں اس میں خاطر خواہ کامیابی مل رہی ہے۔ عرب شیخوں کے ساتھ کمسن لڑکیوں کی شادی کے کئی واقعات کے بعد سے حیدرآباد کا مسلم معاشرہ شدید نکتہ چینیوں کا نشانہ تھا اور یہ تصور ابھرنے لگا تھا کہ حیدرآباد کی خواتین قدامت پسند روایات اور پسماندگی کا شکار ہیں۔ لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ حیدرآباد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی سے اس شہر میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں اور اس کے زبردست اثرات مسلم خواتین پر بھی پڑے ہیں۔ آج کل اس شہر کی برقع پوش لڑکیاں امریکی لہجے میں انگریزی بولتی ہوئی نظر آتی ہیں اور کال سینٹرز میں اپنی خدمات سے امریکیوں کے مسائل سلجھاتی ہیں۔ نوعمرعرشیہ بیگم کال سینٹر میں ابھی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ سر سے پیر تک نقاب میں ملبوس عرشیہ کا کہنا ہے کہ کال سینٹرز ان کی عمر کے لوگوں کے لیے روزگار کا نیا ذریعہ ہیں اور اس سے بہت سے لوگوں کی زندگی بدل گئی ہے۔ عرشیہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں انگلش میں گریجویٹ ہوں۔ کہیں بھی کام کریں محنت اور لگن کام آتی ہے۔ یہ ہماری محنت کا نتیجہ ہے کہ ہمارے گروپ لیڈر اکثر ہماری کار کردگی کی ستائش کرتے ہیں۔ پندرہ، بیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ سے ہم میں اعتماد اور ایک نیا جذبہ پیدا ہوا ہے اور بہت کچھ کرگزرنے کا حوصلہ بھی ملا ہے‘۔ ایک دوسری خاتون عائشہ کا کہنا تھا کہ رات کی ڈیوٹی پر جانے سے شروع میں گھر والوں کو تشویش رہتی تھی لیکن’ہم میں جو جذبہ ہے اس سے ہر چیز آسان نظر آتی ہے‘۔ عائشہ کا کہنا تھا کہ’حیدرآباد میں پردے کا رواج ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پردہ تعلیم و ترقی میں حائل ہے‘۔ سعدیہ تسنیم کمپیوٹرکےایک پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹ میں معلّمہ ہیں اور اسی شعبے میں بیرون ملک سے بھی انہیں ملازمت کی پیشکش ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ آج کی خواتین سماج میں مردوں کے برابر کھڑی ہیں اور وہ بھی اپنی ترقی کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج وہ اپنے گھر والوں کی مالی مدد کرتی ہیں اور لوگ بہت خوش ہیں۔’ہمیں تعلیم اور ملازمت کے لیے گھر والوں اور سماج سے لڑائی لڑنی پڑی تھی لیکن اتنے کم وقت میں ترقی دیکھ کر اب گھر والے بھی ساتھ ہیں۔ہمیں اپنی کامیابی پر فخر ہے اور اب یقین ہے کہ مستقبل میں ہم اور بہتر کریں گے‘۔ حیدرآباد کے مسلم طبقے میں پردے کا چلن ہے لیکن اب نئی نسل میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ نقاب پہننا ضروری ہے یا اس کے بغیر بھی کام چل سکتا ہے۔ ثناء کا کہنا تھا کہ برقع پہننے سے وہ محفوظ محسوس کرتی ہیں جبکہ سحر نے کہا کہ ’اگر دل صاف ہے تو نقاب کی کوئی ضرورت نہیں‘۔ بعض غیر سرکاری تنظیمیں اور فلاحی ادارے مسلم معاشرے کی بیداری کے لیے نمایاں کام کر رہے ہیں۔ اخبار ’سیاست‘ کے مینیجنگ ایڈیٹر ظہیر الدین علی خان کا کہنا ہے کہ ایک سروے سے پتہ چلا تھا کہ بعض شعبوں میں مسلمانوں کی نمائندگی صفر ہے اور تبھی سے بعض تنظیموں نے نئے تعلیم یافتہ لڑکوں اور لڑکیوں کی تربیت کا آغاز کیا۔ مسٹر خان نے بتایا کہ’مسلم معاشرے میں پردے کے سبب خواتین ملازمت کے لیے باہر کم ہی نکلتی ہیں لیکن اب تعلیم کے جذبے کے ساتھ ساتھ لڑکیوں میں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کاایک نیا رجحان پیدا ہوا ہے اور وہ اپنی کامیابی کے لیے تمام ذرائع کا سہارا لے رہی ہیں‘۔ حیدرآباد کے مسلمانوں کو اپنی تہذیب و روایات سے لگاؤ ہے لیکن ان میں تعلیم کا جذبہ ہے اور وہ اپنے حقوق کے تئیں بیدار ہیں۔ آج کل محکمہ پولیس ہویا آئی ٹی کا شعبہ یا پھر میڈیا مسلم خواتین ہر شعبے میں اپنی قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔ حیدرآباد کے تقریبا سبھی بس اسٹاپز پر کالج جانے والی برقع پوش لڑکیوں کی بھیڑ جمع رہتی ہے جو بدلتے ہوئے مسلم معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔ | اسی بارے میں آندھرا پردیش: قطرہ قطرہ بنے دریا ۔۔۔۔15 March, 2006 | انڈیا بہار: پچاس فیصد خواتین سرپنچ 11 March, 2006 | انڈیا ممبئی: وومن ڈے پر دو ڈرامے 06 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||