ممبئی: وومن ڈے پر دو ڈرامے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خواتین کے بین الاقوامی دن یعنی آٹھ مارچ کو ممبئی میں دو تھیٹر گروپ خواتین کی حالت زار کو اجاگر کرنے کے لیے ڈرامے پیش کریں گے۔ آٹھ ٹارچ کوخواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن انڈیا میں خواتین کے حقوق کے لیئے جدوجہد کرنے والی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے اور اپنے حقوق کی یاد دہانی کے لیئے احتجاج بھی کرتی ہیں۔ ایکسپیری مینٹل تھیٹر فاؤنڈیشن آٹھ مارچ سے شہر میں جگہ جگہ ڈرامے کرے گا۔ ڈرامہ کا عنوان ’لاڈلی‘ہوگا۔ فاؤنڈیشن کے صدر اور نامور ڈرامہ آرٹسٹ سنجول بھردواج نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ رحم مادر میں ہی لڑکیوں کو قتل کرنے کا رواج ہوگیا ہے۔ جنس کی شناخت کے لئے کیا جانے والا سائنسی ٹیسٹ حالانکہ قانون کی نظروں میں جرم ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اسے کرواتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سماجی برائی ہے اور اس کا حل قانون بنانے سے نہیں ہو سکتا اس لیئے وہ تھیئٹر کے ذریعے لوگوں میں یہ پیغام دینے کی کوشش کریں گے کہ لڑکی بھگوان کا روپ ہوتی ہے اسے دنیا میں آنے سے روکناگناہ ہے اسے بھی لڑکوں کی طرح حقوق ملنے چاہیئے ۔اسے بھی سماج میں وہ درجہ دینا ضروری ہے جو ایک لڑکے کا ہوتا ہے۔ بھردواج کا کہنا ہے کہ وہ شہر کے جھوپڑ پٹی اور نچلے متوسط طبقے میں بیداری پیدا کرنا ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ وہاں کم پڑھی لکھی عورتیں ہوتی ہیں اور وہاں اس مسئلے کے بارے میں شعور پیدا کرنا ضروری ہے ۔ آٹھ مارچ کو ایک اور گروپ آئیڈیا تھیٹر عورتوں کے مسائل پر ڈرامہ منعقد کر رہا ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے دہلی میں جسیکا لال قتل کیس کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ اس سے پہلے اس گروپ نے گڑیا اور عمرانہ پر بھی ڈرامے کیئے تھے۔ تھیٹر کے صدر مجیب خان کا کہنا ہے کہ جسیکا لال کیس سے پوری قوم کو واقف کرانا ان کا مقصد ہے۔ عدالت نے جب جسیکا لال کیس کے تمام ملزمان کو بری کر دیا تو حالانکہ پورے ملک میں اس کا سخت نوٹس لیا گیا اور ملک گیر مہم شروع ہو چکی ہے لیکن خصوصی طور پر آٹھ مارچ کو وہ یہ ڈرامہ کر کے لوگوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کریں گے کہ آج بھی ملک میں غریب عمرانہ اور گڑیا ہی بے بس نہیں ہیں بلکہ امیر طبقہ میں بھی عورتوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا۔ ان کے حق کی لڑائی میں وہ پورے سماج کو شامل کرنا چاہتے ہیں اور ان کی نظر میں سٹیج سے اچھا ذریعہ اور کوئی نہیں ہے اس لیئے ان کے ڈراموں کو دیکھنے کے لیئے کوئی داخلہ فیس نہیں ہوتی ہے۔ |
اسی بارے میں دنیا کی طاقت ور ترین خواتین21 August, 2004 | انڈیا ہندو خواتین کو حق وراثت 17 August, 2005 | انڈیا ’نچلی ذات کی خواتین پر ظلم‘24 September, 2005 | انڈیا ’خواتین بار میں کام کر سکتی ہیں‘12 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||